تفلن (نان سٹک) کے برتن اور ہماری صحت

Posted on at


 

ماحول کے تحفظ کے امریکی ادارے ( انوائرنمنٹل ایجنسی) نے خبردار کیا ہے کہ کھانے پکانے کے وہ برتن جن کی تیاری میں تفلن استعمال ہو رہاہے ایسے برتنوں میں پکے کھانے استعمال کرنے والے کینسر سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں وہ حاملہ خواتین جو دوران حمل تفلن کےبرتن استعمال کرتی ہیں یا انکا واسطہ کسی طرح بھی تفلن سے خارج ہونے والے بخارات سے پڑتا ہے ایسی خواتین کے ہاں جسمانی نقائص کے بچوں کی پیدائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں فرائی پین ، دیگچیوں اور کٹوروں کے علاوہ کھانے پکانے کے لیے تفلن کے برتنوں کا استعمال پاکستان میں بھی عام ہے ہمارے ہان فروخت ہونے والے وہ برتن جن پر ( نان سٹک ) یعنی نہ چپکانے والے برتن لکھا ہوتا ہے ان کی تیاری میں تفلن ہی استعمال ہوتا ہے

 

کھانے پکانے کے برتنوں کے اندرونی جانب کوٹنگ کی شکل مین گہرے گرے رنگ کے کا کیمیائی مادہ دراصل تفلن ہی ہوتا ہے یہ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو گرم ہونے پر کھانے کو برتنوں مین چپکنے نہیں دیتا تفلن سے کوٹنگ کیے ہوئےبرتن جب گرم ہوتے ہیں تو ان سے چھے زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جن میں دو گیسیں کینسر کا جبکہ دو گیسیں عالمی آلودگی کا باعث بنتی ہیں تفلن کے جلنے کے وجہ سے بے بو بخارات کا اخراض ہوتا ہے جو کہ پالتو پرندوں کے لیے انتہائی مہلک ہے

بی بی سی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق تفلن نہ صرف برتنوں میں بلکہ کپڑوں کی صنعت ، الیکٹرونکس ، ٹرانسپورٹیشن ، ہوائی جہازوں کی صنعت اور تعمیراتی کاموں میں بھی استعمال ہو رہا ہے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ (ناسا) خلانوردوں کو تفلن کے کپڑے فراہم کرتی ہے ۱۹۳۰( ڈوپونٹ) نامی ایک امریکی  کمپنی تفلن کی موجد ہے پھر ۱۹۴۶ میں انہوں نے پہلی بار تفلن کو مارکیٹ میں متعارف کرایا جس کے کچھ عرصے بعد برتنوں میں کوٹنگ کے لیے استعمال شروع ہوا برتنون مین کھانا نہ چپکانے کے باعث تفلن نہ صرٖ پیشہ ور باورچیوں میں بلکہ شوقیہ کھانا پکانے اور گھریلو خواتین میں یکساں مقبول ہے

بعض دریافت ہونے والے تمام کیمیائی مادے جن کا بالواسظہ یا بلاواسطہ انسانوں کی صحت سے تعلق ہے ان کو ضروری جانث پڑتال کے بعد استعمال کی اجازت دی جاتی ہے مگر تفلن ایک لاکھ کیمیائی مادوں میں سے ایک ہے جس کے لیے انسانی صحت کے حوالے سے ایسا مہیں ہو رہا کیونکہ یہ ۱۹۸۱ سے پہلے ایجاد ہو چکا ہے پرفلورو کٹونک ایسڈ جسے ( سی ایٹ) کہتے ہیں تفلن کی تیاری میں بھی استعمال ہونے والا اہم جزہے جسے آج کے جدید پاسٹک کی صنعت میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

       



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160