والدین کے لڑائی جھگڑوں کے بچوں پر اثرات حصہ اول

Posted on at


والدین کے لڑائی جھگڑوں کے بچوں پر اثرات حصہ اول


 



 


اکثر گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ جب والدین آپس میں لڑتے ہیں تو وہ بچوں کی پروا نہیں کرتے کہ بچے کہاں ہیں اور شور مچانا شروع کر دیتے ہیں جن سے بچوں پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں مثلا بچہ بد زبان ہو جاتا ہے وہ بڑے چھوٹے کی تمیز بھول جاتا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے نفاسیاتی مریض بن جاتا ہے پڑھنے لکھنے میں اس کا دل نہیں لگتا اور وہ جب تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت گھر سے باہر گزارے تا کہ گھر والوں کے لڑائی جھگڑوں سے اس کی جان چھوٹی رہے۔


 



 


جب وہ گھر سے باہر رہتا ہے تو بہت سے ایسے کاموں میں پڑ جاتا ہے جو اس کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور وہ بے راہ روئی کا شکار ہو جاتا ہےمثلا نشہ کا استعمال کرنا۔اور چوری چکاری جیسے کاموں میں ملوث ہونا وغیرہ۔


 



 


بعض اوقات ان لڑائی جھگڑوں سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو بچے کی ساری زندگی تباہ کر دیتے ہیں ان میں والدین مثلا آپس میں لڑتے ہیں اور لڑائی جھگڑے اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی احتیار کرلیتے ہیں لیکن وہ علیحدگی احتیار کرتے وقت اپنے بچوں کا نہیں سوچتے اور بچے کی نہ ماں سہی دیکھ بھال کرتی ہے اور نہ باپ اس سے اس کی ساری زندگی خراب ہو جاتی ہے اور وہ ماں باپ کے پیار سے محروم ہو جاتے ہیں۔ 


 



 


 



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160