( گفتگو کا انسانی کردار پر اثر( حصہ دوم

Posted on at


 

مطالعہ کی عادت انسان کو وسیع النظر بناتی ہے اور ایک فائدہ جو میری نظر میں سب سے بڑا ہے وہ یہ کہ شخصیت میں تحمل  ، دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ ، اپنے خیالات ترتیب و قرینے سے دوسروں تک پہنچانے اور درست بات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ غلطیوں سے سیکھنے کی عادت بھی پیدا ہو جاتی ہے اگر مطالعے کو عادت بنا لی جائے تو شخصیت کی تعمیر کے ساتھ علم بھی کردار کا جزو بننے لگتا ہے اس طرح جب مطالعہ وسیع ہو جائے تو انسان کسی بھی محفل میں کسی بھی موضوع پر جب بولیں گے تو حوالے آپ کے خیالات کو تقویت اور دوسروں کو نتائج اخذ کرنے پر خودبخود مجبور کردیں گے یوں ’’درست وقت پر درست بات ‘‘ کہنے کی صلاحیت رفتہ رفتہ بڑھتی چلی گئی

وقت بھی ابلاغ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے گفتگو اگر موقع محل کی مناسبت سے اور آسان لیکن شائستہ الفاظوں میں کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ سننے والا اس جانب میں اپنی پوری توجہ مرکوز نہ کردے جب بھی گفتگوکا آغاز کریں تو موقع کے لحاظ سے الفاظوں کا انتخاب کریں اور ان الفاظوں کی ادائیگی بھی موقع کی مناسبت سے لہجے کو اونچا ،مدھم یا درمیانی رکھیں تاکہ مخاطب پر آپ اپنا مافی الضمیر بہ آسانی واضح کر سکیں اس کے شکریہ ، تعزیت یا معزرت وہ چیزیں ہیں جن کے لیے وقت کا خیال نہ رکھ اجائے تو بعد ازوقت یہ اپنا اثر کھو چکی ہوتی ہیں

برطانیہ کے ایک معروف ادیب اور سوانح نگار جو اپنی حس مزاح اور بذلہ سنجی کی بدولت بھی خاصی شہرت رکھتے تھے  ایک شام کسی محفل میں شریک تھے اسی محفل میں ایک خوبصورت لیکن شادی شدہ اور بڑے بڑے بچوں والی خاتون بھی شریک تھی وہ ادیب صاحب اٹھ کر اسکے پاس گئے اور کہا کہ ’’ خوبصورت خاتون ، کیا آپ مجھ سے شادی کرنے کے لیے سنجیدہ ہو کر سوچ سکتی ہیں خاتون کے لیے یہ بات کسی افتاد سے کم نہیں تھی لیکن انہون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’ ہاں ایسا کرنے میں کچھ حرج نہیں لیکن اس کے لیے ہمیں وقت پیچھے کی طرف لوٹانا ہو گا کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں

یہ بڑا شائستہ سا جواب تھا یاد رکھیں کہ بڑی کڑوی کڑوی باتوں کا جواب بھی بڑی شائستگی سے دیا جاسکتا ہے اور بھوںڈ لہجے میں بھی لیکن اگر شائستگی کا خیال نہ رکھا جائے تو انسانی کردار پر منفی اثر پڑے گا۔

         



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 0
160