موٹاپا ایک بیماری ہے ، کمر کا ناپ ایک میٹر سے کم ہونا چاہیے

Posted on at


 

ایسے افراد جن کی کمر کا ناپ ایک میٹر سے زیادہ ہو ایسے لوگ شوگر اور امراض قلب جیسی بیماریوں سے دوچار ہوسکتے ہیں ایک برٹش میڈیکل کے جریدے میں ایک مشاہدہ شائع ہوا اس مین اس بات کی وضاحت کی گئی کہ مرد ہو یا عورت اگر ان کی کمر کا ناپ ایک میٹر سے کم ہے تو پھر ان کو انسولین کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ شوگر جیسے مرض سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اگر جسم میں انسولین کی مشکلات پیداہو جائے تو شوگر کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے انسولین  ایک ہارمون جسم کے خلیوں سے خون سے توانائی کے ذریع گلوگوز کو جذب کر نے پر ابھارتا ہے انسولین کی بے ترتیبی دراصل قلب اور خون میں بگاڑ پیدا کرتی ہے جو کہ شوگر اور اسکے نتیجے میں پیسا ہونے والے امراض کے باعث ۵۰ سے ۸۰

فیصد زمہدار ہے

موٹاپے کی وجہ سے ہونے والی شوگر اس کے مریضوں میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے اورشوگر کی وجہ سے انسان بینائی سے محروم ہوسکتا ہے انسان کا کوئی جسمانی حصہ بھی گل کر ضائع ہو سکتا ہے یا پھر گردے بھی کام کرنا چھوڑسکتے ہیں

موٹاپا ایک بیماری ہے اور اسکی وجہ سے ہارٹ اٹیک کےخطرات بھی بڑھ جاتے ہیں اور ہارٹ اٹیک میں خون انسان کے دل تک ٹھیک طرح سے نہیں پہنچ سکتا کیونکہ موٹاپے کی وجہ سے خون کی نالیوں میں کولیسٹرول بڑھ جانے کی وجہ سے خون کی نالیاں تنگ ہوجاتی ہے یا والو بند ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے

موٹاپے سے بچنے کے لیے انسان کو اپنی صحت پر توجہ دینی چاہیے موٹاپہ زیادہ مرغن غذائیں کھانے اور ہر وقت بیٹھے یا لیٹے رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے موٹاپے کو کم کرنے کے لیے روزانہ واک کی جائے اور ورزش کو ڈیلی کا معمول بنا لینا چاہیے اور غذاوں میں سبزیوں اور ٖفروٹ کا زیادہ استعمال کیا جائے۔

     



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160