منفی جذبات و احساسات ، خوبصورتی کے دشمن(حصہ دوم)

Posted on at


 

جیسا کہ پچھلے بلاگ میں ،میں نے بتایا کہ منفی جذبات و احساسات انسان کے حسن کو بے نور سا کردیتے ہیں اور یہ منفی جذبات اور احساسات جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر دل اداس ہو تو اچھی سے اچھی خوراک بھی بدن کو نہیں لگتی انسان ہر وقت بے چین سا رہتا ہےبہترین اور حسین ترین نینونقش رکھنے والی شکل وصورت بھی مثبت تاثر قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے زندگی میں پریشانیوں اور دکھوں سے کبھی  ہار نہیں ماننی چاہیے بلکہ انکا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور صرف اللہ پر یقین رکھنا چاہیے یہی یقین ہماری شخصیت کو نمایاں کرتا ہے

اسی طرح نفرت بھی ایک منفی جذبہ ہے نفرت نہ صرف چہرے کا نور چھین لیتی ہے بلکہ جب انسان کسی سے نفرت کرنے لگتا ہے تو اس کو مختلف روگ لگ جاتے ہیں یہ منفی جزبہ بھی خوبصورتی کا قاتل ہے لہذااس سے بچنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ محبت کے جذبات کو زندگی کا حصہ بنایا جائے

لالچ اور ہوس کے جذبات بھی انسان کی طبیعت میں بے چینی اور انتشار پیدا کرتے ہیں یہ بے چینی اور انتشار چہرے کی رونق چھین لیتے ہیں اسکے بجائے صبر اور شکر کی عادت کو اپنانا چاہیے

غصہ انسان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات پیدا کرتا ہے غصہ صرف احساس ہی نہیں بلکہ یہ ایک رویہ ہے جو آپس میں عداوت پیدا کرتا ہے اور اسی سے انسان ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر کا مریض بن جاتا ہے اور اسکے چہرے کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے

دوسروں کی خوشیوں پر جلنا، کڑھنا اور حسد کرنا بھی ایک منفی جذبہ ہے اس بات کا مشاہدہ آپ نے بھی کیا ہو گا کہ جلنے اور حسد کرنے والے خواتین و حضرات کے چہروں پر عجیب قسم کی ویرانی پائی جاتی ہے

احساس کمتری جیسا منفی جذبہ بھی انسان کی شخصیت کو تباہ کر دیتا ہے احساس کمتری میں مبتلا شخص کا اللہ پر اور اپنے آپ پر اعتماد ختم ہو کر رہ جاتا ہے احساس کمتری سے بہت سے نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں اور چہرے کی خوبصورتی جاتی رہتی ہے اس لیے ایسا شخص عبادت  کی طرف راغب ہو کر ہی ان منفی جذبات کو شکست دے سکتا ہے

یہی منفی جذبات ہی انسان کی خوبصورتی کے سب بڑے دشمن ہیں اسلیے ان سے بچنا چاہیے اور اللہ پر یقین رکھنا چاہیے۔



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160