آجکل کے تعلیمی ادارے درس گاہیں یا رقص گاہیں

Posted on at


 

ہمارے ملک میں آجکل کے اکثر تعلیمی ادارے اور میڈیا ہماری نسل نو کو اپنی تہذیب اور ثقافت سے دور کرکے انکو عشق اور محبت کے کردار اور بے راہ روی کی جانب لے کر جارہے ہیں اور اگر کسی ملک و قوم کی نوجوان نسل کو اس کام پر لگا دیا جائے تو پھر اس کو ملک اور قوم کو اپنی بقاء کے لیے بہت کوشش کرنی پڑتی ہے ہمارے معاشرے میں آجکل تعلیمی اداروں میں نصابی لیکن غیر تعمیری سرگرمیوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے یہ سرگرمیاں زیادہ تر گرلز کالجز اور نجی تعلیمی اداروں میں فن فیئرز اور غیر نصابی پرگراموں کے نام سے منعقد ہوتی ہیں جہاں پر اخلاقیات کی حدود کو پامال کیا جاتا ہے

ہمارے ملک میں پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں میں روشن خیالی کے نام پر جو تقریبات ، مقابلہ حسن ، مقابلہ ڈانس اور فیشن کے مقابلے ،میوزک پروگرام ہوتے ہیں یہ ہمارے معاشرے اور ثقافت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور انکے نتیجے میں ان تعلیمی اداروں سے سائنسدان اور دانشور اور محب وطن لوگ پیدا ہونے کے بجائے ڈانسر اور رومانوی ہیروز پیدا ہورہے ہیں اور یہ جو تقریبات ہمارے تعلیمی اداروں میں ہوتی ہیں والدین اور اساتذہ بھی ان میں شریک ہوتے ہیں اور ان تقریبات میں ہونے والے ناچ گانے اور ڈانس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور سا تھ ہی یہ بھہ کہتےہیں کہ ان کی تربیت میں کوئی کمی نہیں رہ گئی

ہمارا ملک پاکستان بہت سی قربانیان دے کر اس لیے حاصل نہیں کیا گیا کہ اس کو روشن خیالی اور مغربی معاشرے  کی ثقافت کی آمجگاہ بنادیا جائے ہمارے ملک میں درس گاہون کو رقص گاہوں میں تبدیل کرنے کی  یہ بہت بڑی سازش ہے کہ مسلمانوں کی نسل نو کو اپنی ثقافت سے دور کیا جائے ہمارے یہاں سب سے بڑا ظلم تعلیم کے نام پر ہو رہا ہے ہمارے تعلیمی ادارے ماضی جیسا کردار ادا نہیں کررہے

ہمارا ملک پاکستان اسلام کا بہت بڑا قلعہ ہے اسلیے ہمیں اپنی ثقافت کو نہیں بھولنا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں اسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے 



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160