part 3)اکبر الہٰ آبادی کے حالات زندگی اور ان کی شاعرانہ خصوصیات

Posted on at


مزاح میں تحریف نگاری(پیرو ڈی) بہت خاص چیز ہے۔ اکبر اس سے بھر پور کام لیتے ہیں۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے ایسے الفاظ میں پیروڈی کی ہے جس کا مغربی تہذیب سے تعلق ہے۔ شیخ سعدی کی کتاب " کریما " کے پہلے شعر کی اس طرح تحریف کی ہے۔

کریما بہ بخشائے برحال بندہ

کہ ہستم اسیر کمیٹی و چندہ

 

اکبر کے ظریفانہ کلام میں سوقیانہ پن نہیں پایا جاتا  وہ اسلامی تہذیب کے علمبردار ہیں اس لیے شائستگی کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے ہیں۔ مکروہ اور بے ہودہ باتوں کو موضوع گفتگو نہیں بناتے اور نہ ہی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے اخالقی پستی ظاہر ہو ۔

حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی

اب ہے شمع انجمن پہلے چراغ خانہ تھی

اکبر کی شاعری میں ظرافت کی چاشنی کے تیر جس قدر نظر آتے ہیں وہ محض اصلاح و ہدایت کے لیے ہیں۔ ان اشعار میں اگر غور سے دیکھا جائے تو انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے۔ جو فکر و شعور کی تربیت میں معاون ہے۔ وہ انگریزی تہذیب و تمدن اور فرنگی سیاست کے ساتھ ساتھ بے راہ روی و بے پردگی پر احتجاج کرتے ہیں اور کچھ اس درد اور خلوص کے ساتھ اظہار کیا کرتے ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ان کے یہاں سنجیدہ اشعار بھی مل جاتے ہیں جن سے ان کے مقصد شاعری کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے وہ کہتے ہیں :

تم شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو

جائز ہے غباروں میں اڑو، چرخ پہ جھولو

بس ایک سخن بندہ عاجز کار ہے یاد

اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

ایک جگہ وہ فرماتے ہیں کہ

نئی تہذیب سے دقت ذیادہ تو نہیں ہوتی

مذاہب رہتے ہیں قائم فقط ایمان جاتا ہے

الغرض اکبر الہٰ آبادی کی شاعری درد ، قومی خلوص اور ہمدردی کا آئینہ دار ہے وہ طنز کرتے ہیں تو محض اس لیے کہ قوم اس نئی تہذیب و معاشرت میں پھنس کر مذہب و معاشرت سے بے گانہ نہ ہو جائے وہ انگریزی تعلیم ، کالج یا تعلیم نسواں کے مخالف نہیں ، مخالف تھے تو اس  لیے کہ مسلمانوں کی اقدار حیات پامال ہورہی تھیں۔ وہ خود سرکاری ملازم تھے ، اپنے بیٹے کو انھوں نے انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم دلوائی، لیکن پھر بھی وہ انگریزی الفاظ کا سہارا لے کر ان کا مزاق اڑاتے رہے جو مغرب سے وارد ہوئی تھی اور وہ اس لیے کہ اس سے تمام قدریں پامال ہو رہی تھیں ۔ اس درد خلوص کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک عظیم انسان تھے ۔ ان کی شاعری عظیم تھی اور آج بھی عظیم ہے۔

اکبر کے بارے میں باقدین کی یہ رائے ہے کہ " اکبر نے اس دھوپ میں بال سفید کیے تھے  جس نے سلطنت اسلامی کا باغ خشک کر دیا تھا"۔ اسی طرح ڈاکٹر ابوالخیر کشفی نے اکبر کے بارے میں کہا کہ " اکبر نے مغربی نظام تعلیم پر جو تنقید کی ہے وہ محض ایک ملا کے پر خلوص اور  متعصب جذبات نہیں بلکہ اس میں ایک ماہر تعلیم کی گہرائی ہے"۔

 



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160