ایڈولف ہٹلر

Posted on at


advertising


ایڈولف ہٹلر 20 اپریل 1889 کو جرمنی کی سرحد کے ساتھ آسٹریا کے ایک قصبے برانائو میں پیدا ہوا، ہٹلر کے دوسرے بہن بھائی چھوٹی عمر میں ہی مر گئے تھے،


ہٹلر کا باپ ایک معمولی کسٹم افسر تھا اور جب ہٹلر چودہ سال کا تھا تو ہٹلر کا باپ ایک معمولی میراث چھوڑ کر مر گیا تھا، ہٹلر کی ماں اس کے باپ سے بیس سال چھوٹی تھی، جب ہٹلر 18 سال کاتھا تو اس کی ماں فوت ہوگئی، ہٹلر اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتا تھا، یہاں تک کہ ہٹلر کی موت کے وقت بھی اس کے پاس اپنی ماں کی تصویر موجود تھی۔



جب ہٹلر نے تعلیم شروع کی تو اس کا خواب ایک آرٹسٹ بننا تھا، جبکہ ہٹلر کے باپ کی یہ خواہش تھی کہ ہٹلر سول سروسز کا افسر بنے، باپ کی وفات کے بعد ہٹلر نے سکول چھوڑ دیا، اس کہ یہ کوشش تھی کہ وہ ویانا کی فائن آرٹس اکیڈمی میں داخلہ لے لے۔


ماں کی وفات کے بعد اپنے خواب کی تکمیل کے لیے وہ ویانا چلا گیا، اس نے ویانا کی فائن آرٹس اکیڈمی کی دو دفع داخلے کا امتحان دیا لیکن وہ فیل ہوگیا کیونکہ وہ انسانی تصویر نہیں بنا سکتا تھا، آخر کار بے روزگاری اور بھوک سے مجبور ہو کر ہٹلر نے اپنا تمام مال و متاع بیچ دیا اور ویانا میں بے گھری کی زندگی گزارنے لگا، ہٹلر کچھ پوسٹ کارخ بیچ لیتا لیکن وہ غربت کی زندگی گزارتا رہا، اسے یہودیوں کو دیکھنے، ان کے ساتھ کام کرنے اور ان کو جاننے کا موقع ملا، اسے جرمن قومیت اور سیاست سے متعلق  لٹریچر پڑہنے کا موقع ملا۔



پہلی جنگ عظیم   1914 میں شروع ہوئی، جرمنی، آسٹریا،اور ترکی ایک طرف جبکہ مقابلے میں برطانیہ، روس، فرانس، اٹلی اور ولایات متحدہ دوسری طرف تھے،  ہٹلر پہلی جنگ عظیم میں جرمن فوج میں بھرتی ہوگیا تھا ، اس وقت ہٹلر کی عمر چوبیس سال تھی، اس نے جرمن فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے جنگ میں شمولیت اختیار کی، اس کا کام افسروں کے جنگی احکامات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا تھا، اسے دو دفع بہادری کی وجہ سے جرمنی کا سب سے بڑا فوجی اعزاز آئرن کراس ملا، ایک دفع اس نے اکیلے چار فرانسیسی سپاہیوں کو گرفتار کیا، جنگ کے اختتام پر ایک گیس حملے میں زخمی ہوگیا تھا ۔



پہلی جنگ عظیم چار سال تک جاری رہی اور اس کا نتیجہ جرمنی اوراس کے اتحادیوں کی ہار کی صورت میں ثابت نکلا، ہٹلر کا یہ یقین تھا کہ جرمنی کی ہار عسکری شکست کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاستدانوں اور یہودیوں کی وجہ سے تھی، جرمنی کو معاہدہ ورسا پر دستخط کرنا پڑے جس کی شرائط بہت ذلت آمیز تھیں، جرمنی کو جنگ کے آغاز کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا، جرمنی کو کئی ملکوں کو تاوان جنگ ادا کرنا پڑے، جرمنی کی فوج کو ایک لاکھ تک محدود کر دیا گیا، ہوائی اور بحری و فوج پر پابندی لگا دی گئی، جرمنی کو اپنے ملک کے گیارہ فیصد علاقے سے محروم کر دیا گیا،  جرمنی پر دریائے رہائن کے مغربی علاقے میں فوج رکھنے پر پابندی لگا دی گئی۔


جنگ کے اختتام پر ہٹلر ایک مایوسی کے عالم میں تھا، وہ فوج کے لیے ایک جاسوس کے طور پر کام کرنے لگا، وہ سپاہیوں کو کیمونزم کے خلاف لیکچر بھی دیا کرتا تھا، ہٹلر کو مخبر کے طور پر ایک چھوٹی سی پارٹی میں جاسوسی کے لیے مامور کیا گیا، اس نے اس پارٹی کی ایک میٹنگ میں تقریر کی تو اسے اس پارٹی کی رکنیت پیش کر دی گئی جو اس نے قبول کرلی،  ہٹلر اس پارٹی کے سرمایہ دارانہ، کیمونیسٹ اور یہودی مخالف نظریات سے بہت متاثر ہوا، وہ اس پارٹی میں اہم کردار ادا کرنے لگا،اس نے اس پارٹی کا نام تبدیل کروا کر نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی یا نازی پارٹی رکھوا دیا۔



ہٹلر نے اس پارٹی کی قیادت سنبھالی تو اس کی بنیاد 27 نکات پر رکھی جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔



  1. معائدہ ورسائی کا خاتمہ

  2. یہودیوں کے شہری حقوق کا خاتمہ

  3. جنگ سے منافع کمانے والوں کی جائداد کی ضبطی۔


جرمنی معاہدہ ورسا کے تحت فرانس کو تاوان جنگ ادا کرنے میں ناکام ہوگیا، فرانسیسی فوجیں جرمن علاقوں میں داخل ہوگئیں، جرمن حکومت جوابی کاوائی کرنے سے قاصر تھی،  30 اکتوبر 1923 کو ہٹلر نے میونخ کے بیر ہال میں ایک ریلی منعقد کی، اس نے قومی انقلاب کا اعلان کیا اور صوبہ باواریا کی حکومت پر قبضہ کر نے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش ناکام ہوگئی،  اس پر بغاوت کا مقدمہ چلا، اس مقدمہ میں اس کو اپنی دھواں دار تقریروں کے ذریعے اپنے نظریات پھیلانے کا موقع ملا، تمام جرمنی کہ پتہ چل گیا کہ ہٹلر اور اس کا منشور کیا ہے، اس کو پانچ سال کو قید ہوئی لیکن اپنے اچھے رویے کی وجہ سے اسے نو مہینے چھوڑ دیا گیا، جیل کے بعد وہ دوبارہ سیاست میں سرگرم ہوگیا۔


اس نے جیل میں اپنی کتاب میری جدوجہدلکھی  یہ کتاب بہت مشہور ہوئی اور اس کی پانچ لاکھ کاپیاں بکیں جس سے وہ امیر  اور مقبول ہوگیا۔


اپنی مقبولیت کے بل پر وہ حکومت میں شامل ہوگیا اس نے جرمن قوم کو دوبارہ عظیم بنانے کی بات کی اس کی تقریریں لاکھوں کو مسحور کردیتی تھیں۔



1933 کے انتحابات جیت کر وہ جرمنی کا چانسلر بن گیا،  اس وقت جرمنی شدید معاشی بحران کا شکار تھا، بے روزگاری اور مہنگائی کے طوفان میں گھرا ہوا تھا، ہٹلر ایک ایسا ہیرو تھا جو جرمنی کی عظمت رفتہ  کی بحالی کا پرچار کرتا تھا،  اس نے جرمنی کے سرمایہ کاروں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کیمونیسٹ نظام کو جرمنی میں نہیں آنے دے گا،     وہ ہمیشہ یہودیوں کو جرمنی کے مسائل کا ذمہ دار سمجھتا تھا، وہ ایک بہت زبردست مقرر تھا،وہ اپنے سامعین کو قائل کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا تھا۔


ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے کچھ عرصے بعد جرمنی کی پارلیمنٹ کو آگ لگ گئی اور کیمیونیسٹوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور کیمیونیسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی، دوبارہ الیکشن کرائے گئے جن میں ہٹلر کی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی۔



اس کی معاشی اصلاحات نے اس کے اقتدار کے اولین سالوں میں ہی جرمنی کو معاشی طاقت بنا دیا اور اہل جرمن کو خوشحال کردیا، بے روزگاری مکمل طور پر ختم ہوگئی ، یہ معاشی ترقی بھی اس کی مقبولیت کی بڑی وجہ بنی،  اس نے معاہدے ورسا کو پھاڑنے کا اعلان کیا ، اس نے اپنی کتاب(میری جدو جہد) میں یہ بھی لکھا تھا کہ جرمن قوم کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے نئے علاقوں کی ضرورت ہے،  وہ جرمنی کے مقبوضہ علاقے واپس لینا چاہتاتھا، وہ ایک انتہائی مقبول لیڈر تھا،۔


چونکہ آسٹریا کے لوگ بھی جرمن بولتے ہیں اس لیے اس نے بہت بڑی جدو جہد کے ذریعے دونوں ملکوں کا الحاق کرلیا اور آسٹریا جرمنی میں شامل ہوگیا، دوسری عالمی طاقتیں اس الحاق کی مخالفت نہیں کر سکیں۔


sudetenlandچیکو سلویکیا  کا ایک جرمن بولنے والا حصہ تھا جو پہلی جنگ عظیم میں جرمنی سے چھین لیا گیا تھا، ہٹلر نے  sudetenlandکے جرمنی سے الحاق کا مطالبہ کردیا، میونح میں کانفرنس میں عالمی طاقتیں اسے ہٹلر کا آخری مطالبہ سمجھتے ہوئے مذاکرات پر راضی ہو گئیں، ہٹلر نے فوجیں  sudetenlandمیں داخل کردیں،۔



پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی کا شہر danzigپولینڈ کو دے دیا گیا تھا، ہٹلر نے اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہاں جرمنوں پر ظلم ہو رہا ہے پولینڈ پر حملہ کردیا،  بہت جلد ہٹلر کی فوجیں پولینڈ پر قبضہ کر لیتی ہیں لیکن  فرانس اور برطانیہ نےجرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اس طرح دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا۔


دوسری جنگ عظیم کے شروع ہوتے ہی چند دنوں کے اندر ہٹلر LUXEMBURG, DENMARK, NORWAY, HOLLAND,پر قبضہ کر لیتا ہے،  جرمنی اور فرانس کے درمیان کشیدگی زیادہ ہو جانے پر جرمنی، فرانس پر براستہ بیلجیم حملہ کر یا ،ڈیڑھ ماہ کی لڑائی کے بعد جرمنی نے فرانس پر قبضہ کرلیا، برطانوی افواج جو فرانس کی مدد کے لیے آئی تھیں بڑی مشکل سے ڈنکرک سے بچ کر نکلیں۔


ہٹلر کا یورپ پر تسلط تقریباََ مکمل ہوگیا مگر برطانوی وزیر اعظم چرچل جرمنی کی دن رات برطانیہ پر بمباری کے باوجود کسی صورت میں ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہ تھا۔


اس جنگ میں اٹلی جرمنی کا اتحادی تھا ، اٹلی کی افواج  نےیونان پر حملہ کیا مگر وہاں پھنس گئیں ، جرمنی نے ان کی مدد کی اور یونان فتح ہوگیا مگر جرمنی کا روس پر حملہ تاخیر کا شکار ہوگیا، جرمنی نے روس پر حملہ کیا اور چند دنوں میں اس کی افواج ماسکو تک پہنچ گئیں،  مگر سردیوں کا آغاز ہو گیا اور کئی جرمن فوجی سردی سے زخمی اور بیمار ہو کر مر گئے، روس کی افواج نے جوابی حملہ کیا اور جرمن افواج کو پسپائی ہوئی۔


جاپان جرمنی کا اتحادی تھا اس نے امریکہ کے پرل ہابر پر حملہ کردیا اور امریکہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا، جرمنی اور امریکہ جنگ میں ایک دوسرے کے مخالف بن گئے۔


شروع میں جرمن آبدوزوں نے برطانیہ کے بہت سے جہاز تباہ کیے مگر پھر امریکہ نے آبدوزوں کا سراغ لگانے والے آلات ایجاد کر لیے اور جرمن آبدوزوں کا بہت نقصان ہوا۔



1943 میں سٹالن گراڈ کی لڑائی شروع ہوئی جس میں جرمن افواج کو سخت مزاہمت کے بعد پسپا ہونا پڑا مگر ہٹلر نے پسپا ہونے سے منع کردیا اور سٹانے گراڈمیں جرمن افواج کو قیدی بنا لیا گیا،اس کے بعد روس کے محاذ پر اگلے دو سال تک جرمن افواج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔


1944 میں نارمنڈی  کی لڑائی میں جرمن فوجیں پسپا ہوتے ہوئے پولینڈ تک پہنچ گئیں اور اٹلی میں بھی جرمن افواج اتحادی افواج کے ہاتھوں پسپا ہوئیں اس موقع پر اتحادی افواج  نےفرانس میں نارمنڈی کے ساحل پر حملہ کر کے قبضہ کرلیا، اور ستمبر 1944 میں فرانس کو آزاد کرالیا۔


دسمبر 1944 میں جرمن آخری دفعہ بیلجیم میں امریکی افواج پر حملہ کیا جرمن فوجیں امریکی فوج کے علاقوں میں 80 کلو میٹر تک گھس گئیں، شروع میں جرمن فوجیں جیتیں مگر بعد میں اسلحہ اور ایندھن اور ہوائی جہازوں کی کمی کی وجہ سے  شکست کھا گئیں۔ اس جنگ میں 12000 امریکی اور 80000 جرمن ہلاک ہوئے۔



جرمن فوجیں دو محاذوں پر مشرق اور مغرب میں عددی اور وسائل کے لحاظ سے اپنے سے کہیں طاقتور افواج کے ساتھ مقابلے میں تھیں ،آخر کار جرمنی کو شکست ہوئی، ہٹلر نے ہتھیار ڈالنے اور قیدی بننے کے بجائے 30 اپریل 1945  کو خودکشی کرلی ۔


امریکہ کے جاپان پر ایٹم بم گرانے کے بعد اس جنگ کا مکمل خاتمہ ہو گیا ،اس جنگ کے بعد دنیا کی طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل گیا، برطانیہ اور فرانس جنگ کے بعد کمزور ہو کر عالمی طاقتیں نہ رہیں، امریکہ اور روس دو نئی عالمی طاقتوں کے طور پر ابھریں۔ 



About the author

160