علم جنت کی راہ کی روشنی ہے

Posted on at


علم کے معنی ہیں جاننا ، آگاہی اور واقفیت۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔ علم ہی سے شرف انسانیت ہے۔ اسی علم کی بدولت انسان کو فرشتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہوئی۔ علم ہی کی بدولت انسان کو منصب خلافت پر فائز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دل و دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان مسلسل ارتقاء کی منزلیں طے کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ آج تک انسان نے جس قدر ترقی حاصل کی ہے ہو علم ہی کی مرہون منت ہے۔ علم سے محبت اور لگاؤ تقاضائے انسانیت ہے۔


قرآن مجید کی روشنی میں


قرآن مجید میں علم کی اہمیت اور فضیلت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روسول اکرم ﷺ کو علم میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔


قل ربِ زدنی علما


کہو اے میرے رب! میرا علم زیادہ کر۔


قل ھل یستوی الذی یعلمون والذین الیعلمون


ان لوگوں سے کہئے کہ کیا جاننے والے اور نہ ناننے والے برابر ہو سکتے ہیں۔


رسول اکرم ﷺ  پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس کا آغاز اقرا(یعنی پڑھو) سے ہوتا ہے۔


احادیث کی روشنی میں


احادیث میں بھی علم کی اہمیت اور فضیلت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے


علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔


پھر ارشاد ہوا۔


جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی طرف جانے کا راستہ آسان کردیتا ہے۔


پھر فرمایا۔


پنگوڑے سے لے کر قبر تک علم حاصل کرو۔


ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے۔


علم نبیوں کا وارث ہے۔


ایک اور ارشاد نبوی ﷺ ہے۔


حکمت مومن کی گم شدہ چیز ہے ، وہ اسے جہاں بھی پالے اس کا زیادہ حقدار ہے۔


حضرت علیؓ کا قول


حضرت علی المرتضیؓ نے علم کے بارے میں فرمایا۔


ہم اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم پر راضی ہیں کہ اس نے ہمیں علم عطا کیا اور جاہلوں کو دولت دی کیونکہ دولت تو عنقریب فنا ہوجائے گی اور علم کو زوال نہیں۔


امام غزالی کا قول۔


سب مسلمانوں کے لئے ضروری ابتدائی فرائض میں علم کا حاصل کرنا فرض عین ہے۔ لیکن ہر بستی میں کم از کم ایک ایسا عالم دین ہونا چاہئے جو اسلام علوم و فنون کا ماہر ہو تاکہ لوگ مشکلات میں اس سے رہنمائی پا سکیں۔


معرفت الحٰی


علم معرفت الحٰی کا ذریعہ ہے۔ علم کی بدولت انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت یا پہچان حاصل کرتا ہے ایک جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کرسکتا اور ظاہر ہے جب تک معرفت الیٰ حاصل نہ ہو انسان کبھی حقیقی فلاح و کامرانی حاصل نہیں کرسکتا۔


مقصد حیات


علم کے ذریعے انسان یہ معلوم کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بے مقصد نہیں بنایا بلکہ تخلیق کائنات کا خاص مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر منصب خلافت پر فائز کیا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق انسانوں اور حیوانوں کو خدا نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ عبادت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں خدا کی پرستش کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم زندگی خدا کے بتائے ہوئے طریقے اور قانون کے مطابق گزاریں۔ اسی صورت میں اصل مقصد حیات حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے لئے علم کا ہونا لازمی ہے۔


قلم تلوار سے طاقتور


اگر چہ تلوار بھی بڑی قوت و طاقت رکھتی ہے۔ تلوار کے ذریعے حکمران و فاتح ملکوں اور علاقوں کو مسخر کرتے ہیں اور اس کے ذریعے انتظام سلطنت چلاتے ہیں۔ لیکن قلم کی طاقت اور قوت تلوار سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قلم دلوں اور روحوں کو مسخر کرتا ہے۔ یہ لوگوں کے دل و دماغ میں انقلاب لاتا ہے اور اس طرح ان کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ تلوار کی فتوحات عارضی ہوتی ہے۔ لیکن قلم کی فتوحات لازوال ہے۔ آج دنیا کتنے صا حب سیف اشخاص کو یکسر فراموش کرچکی ہے۔ لیکن صا حب قلم ہستیاں زندہ و جاوید ہیں۔


سائنسی ترقی


علم سا ئنس کی بدولت انسان کا کائنات کی بڑی بڑی قوتوں کو مسخر کر رہا ہے۔ یہ علم ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان سر بفلک پہاڑوں لق و دق صحراؤں ، بھپرے ہوئے سمندروں اور بسیط فضاوٗں پر حکمرانی کر رہا ہے۔ یہ علم ہی کا فیض ہے کہ آج انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے اور دوسرے سیاروں کی تسخیر کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔


قومی ترقی کا ذریعہ


علم افراد ہی کا نہیں ملکوں اور قوموں کی ترقی کا بھی ذریعہ ہے۔ آج جو قومیں ترقی یافتہ کہلاتی ہیں اور دنیا پر حکمرانی کر رہی ہیں وہ علم ہی کی بدولت اس مقام پر پہنچی ہیں۔ اس کے مقابلے میں جو قومیں علم کے میدان میں پیچھے ہیں وہ ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے ہیں۔ علم مسلمان قوم کا شیوہ اور طرہ امتیاز رہا ہے اور جب تک مسلمان علم کے ہتھیار سے مسلح رہے وہ دنیا پر چھائے رہے لیکن علم سے محروم ہوکر وہ زوال اور پستی کا شکار ہو گئے۔ آج بھی ہم علم ہی کی بدولت دنیا میں سرفرازی حاصل کرسکتے ہیں



About the author

muhammad-haneef-khan

I am Muhammad Haneef Khan I am Administration Officer in Pakistan Public School & College, K.T.S, Haripur.

Subscribe 4129
160