آسیہ اکبر جو کہ ھیڈ آف ریاضی ڈیپارٹمنٹ ہیں سوریا ھائی سکول میں (کے ساتھ انٹرویو)۔

Posted on at

This post is also available in:

 

جسطرح کسی بھی ملک اور ملت کیلۓ ایک قانونی نظام  کی ضرورت ہوتی ھے ۔۔اور اسکے لیۓ ایک فوج اور پولیس کے ادارے کی ضرورت ھوتی ھے۔تا کہ اس ملک میں بچوں نوجوانوں اور بڑوں کی تربیت کر سکیں اور یہ سارا نظام کسی بھی ملک میں اساتذہ کے نظام سے ھے جو کہ کسی بھی قوم و ملت کے طلباء کو علم ودانش اور دانائی کے خزانے دیتے ہیں

اسی طرح اساتذہ ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔کیوں کہ اسی کی وجہ سے کوئی بجی ملک ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن ھوجاتا ھے۔.

 

اس دفعہ کابل کی ایک جوان استانی  کی سوانح آپ کے سامنے لا رھے ہیں ۔ 

آسیہ اکبر)۔).

آسیہ جان جو کہ افغانستان کے شہر کابل میں پیدا ھوئیں اور وہیں پراس یادوں سے بھرے شہر میں  پروان چڑھیں۔اور طالبان کے سخت وقت میں تمام تر سختتیوں کے ساتھ گزارا۔وہ کہتی ہیں کہ یہ وقت آسان نہ تھا کوئی بھی چیز نامل اور صحیح طریقے سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔مگر میں اپنے ملک کو چھوڑ کر بیگانوں میں نہیں جا سکتی تھی۔۔

مس آسیہ  نے ریاضی کے ڈیپارٹمنٹ سے کابل یونیورسٹی سے گریجویشن کی ھے۔اور اپنی اور  فیملی کی خواھش پر ٹیچنگ کا شعبہ چنا ۔اور اسکے بعد سے سوریا ھائی سکول میں بچون کو پڑھانےمصروف ہیں۔اس کے علاوہ کڑھائی سلائی اور بینکاری کے کام میں بھی تجربہ رکھتی ہیں۔اسکے علاوہ انگلش اور روسی زبانوں سے بھی واقف ہیں۔۔.

وہ کہتی ہیں کہ۔۔.

اگرچہ افغانستان میں مردوں کی نسبت خواتین کا علم حاصل کرنا بہت مشکل ھے۔مگر ایسی صورتحال کیساتھ بہت ساری خواتین علم حاصل کر کے بہت اونچے مقامات پر پہنچی ہیں۔اور میں اس بات پر فخر کرتی ہوں کہ افغانستان میں بھی ایسے لوگ ھیں۔مگر اس کے باوجود حکومت کو چاہیۓ کہ خواتین کی تعلیم کیلۓ زیادہ  مواقع فراھم کریں تا کہ اس سے وہ لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کر سکیں جو کہ مالی طور پر کمزور ہیں۔اور تا کہ  وہ کام بھی کر سکیں اور اس کےلۓ شہر میں امن وامان کی صورتحال بھی صحیح  ہونی چاہیۓ۔ 

 

.میرے خیال میں پچھلے سالوں کی نسبت حالت اب کافی بہتر ھے کیوں کہ دس سال پہلے  اس طرح کوئی اپنی تعلیم حاصل کر پاتا۔مگر اب کئی ایسے ہین جو کہ ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ  تک جاتے ہیں اور ہم سب کیلۓ فخر کا باعث ہیں۔

 

مس آسیہ سماجی میڈیا کی سائیٹس کو بہت فائدہ مند قرار دیتی ہیں۔کیوں کہ اس اپنا علم اور اپنے نظریات اپنے دوستوںکیاتھ پوری دنیا کے ساتھ شریک کر سکتے ہیں۔اور اسی لیۓ ٹویٹر اور فیس بک سے استفادہ حاصل کرتی ہیں  تا کہ دنیا اور نئی ٹیکنالوجیز سے باخبر رہ سکیں۔.

وہ کہتی ہیں کہ ان کی خواھش ہیکہ وہ جاپان کا سفر کریں کیوں کہ جاپان ہی نے دنیا کو ایک نئی سمت دی ھے اور اس بات کو پسند  کرتی ہیں کہ انکا نزدیک سے مشاھدہ کریں اور دوسری طرف جاپان ہی تمام دنیا میں جدید الیکٹرونکس کا منبع ھے۔.

میں آسیہ اکبر  ایک افغان ھوں اور افغانستان سے پیار کرتی ہوں جب تک زندہ ہوں ان لوگو ں اور پانے شاگردوں کی خدمت کرتی رھوں گی میرا سب سے بڑا ھدف علم حاصل کرنا ھے اور اس علم سے سب کو مستفید کرنا ھے۔

ہم سب کا ھدف اپنے ملک کی ترقی ھونی چاہیۓ کیوں کہ اسی سے ھم سب کی ترقی ھو گی۔

 

وومنز اینکس



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3477
160