پاکستان کے نظام عدل میں اصلاح کے پہلو (١)

Posted on at


پاکستان کے نظام عدل میں اصلاح طلب پہلوؤں پر بحث کرنے سے قبل ہم ایک نظر پاکستان کے عدالتی ڈھانچے پر ڈالتے ہیں تا کہ اپنے موقف کی وضاحت میں آسانی ہو-

پاکستان کا عدالتی نظام

: حکومت اپنا نظم و نسق چلانے کی خاطر دستور مرتب کرتی ہے اور قوانین کے مطابق عوام کو انصاف بہم پوھنچاتی ہے-سب امور کی انجام دہی کے لیے حکومت انتظامیہ اور عدلیہ سے کم لیتی ہے-عدلیہ قوانین کی پیچیدہ گھتیاں سلجھاتی ہے-پاکستان کا عدالتی نظام فوجداری اور دیوانی عدالتوں پر مشتمل ہے-علاوہ ازیں مال گزاری کی عدالتیں اور کبھی کبھی خصوصی عدالتیں بھی قائم کی جاتی ہیں-ان عدالتوں کا مختصر تذکرہ یوں ہے-

 

فوجداری عدالتیں:

اس قسم کی عدالتیں قتل و غارت ،ڈاکہ زنی ،غنڈہ گردی اور زنا کاری وغیرہ کے جرائم کے مقدمات کی سما عت کرتی ہیں اور جرم ثابت ہونے پر مزریموں کو سزائیں سناتی ہیں-عرف عام میں ایسی عدالتوں کو سیشن کورٹ کہا جاتا ہے-سیشن کورٹ ضلع بھر کی سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے اور یک کا سربراہ سیشن جج ہوتا ہے –سیشن جج کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح کی فوجداری مقدمات کی سماعت کرے اور بڑی سے بڑی سزا دے –البتہ سزاے موت کی توثیق ہائی کورٹ سے کروانی پڑتی ہے-ضلع کے مجسٹریٹو ں کی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سننے کی مجاز سیشن کورٹ ہوتے ہیں-ڈپٹی کمشنر ا ڈسٹرکٹ مجسٹر یٹ ،اسسٹنٹ کمشنر اور اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر درجہ اول کے مجسٹریٹ ہوتے ہیں-بعض مجسٹریٹو ں کو دفع تیس کے اختیارات بھی دیے جاتے ہیں- تحصیل دار عموما درجہ دوم کے مجسٹریٹ ہوتے ہیں جبکہ نائب تحصیل دار درجا سوم کے مجسٹریٹ ہوتے ہیں-

دیوانی عدالتیں:

دیوانی عدالتیں لوگوں کے لین دیں اور معا ہد ا ت کی خلاف ورزی کے مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں-یک طرز کی عدالتوں میں لوگوں کے حقوق کا تعین کیا جاتا ہے-یہ عدالتیں ڈسٹرکٹ کورٹ کی صورت میں ہوتی ہیں-ڈسٹرکٹ کورٹ ضلع کی سب سے بڑی دیوانی عدالت ہوتی ہے اور اسکا سربراہ ڈسٹرکٹ جج ہوتا ہے –عام طور پر ضلع کا سیشن جج ہ ڈسٹرکٹ جج ہوتا ہے-ان عدالتوں کو سزا دینے کا اختیار بھی ہوتا ہے-یہ عدالت ما تحت عدالتوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتی ہے-ڈسٹرکٹ جج ما تحت عدالتوں کا نگران ہوتا ہے – یک طرح ان عدالتوں کی سماعتسینئر سول جج بھی کرتا ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جج کی طرف سے ما تحت عدالتوں کی نگرانی کرتا ہے- بعض نوعیت کے مقدمات بھی نپٹاتا ہے-اور ما تحت ججوں میں تقسیم کار کا فریضہ بھی ادا کرتا ہے –بعض سول ججوں کو خصوصی اختیارات بھی تفویض کیا جاتے ہیں-یہ دار اصل سرسری دیوانی مقدمات کی سماعت کے مجاز ہوتے ہیں-



About the author

aroosha

i am born to be real,not to be perfect...

Subscribe 1185
160