بعض باتیں عیب اور تکلیف کی جو عورتوں میں پائی جاتی ہیں۔

Posted on at


ایک عیب کی بات یہ ہےکہ بات کا معقول جواب نہیں دیتںں جس سے پوچھنے والے کو تسلی ہو جائے۔بہت سی فضول باتیں ادھر ادھر کی ملا دیتی ہیں اور اصل بات پھر بھی معلوم نہیں ہوتی۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ جو شخص کچھ پوچھے اس کا مطلب غور سے سمجھ لو۔ پھر اس کا جواب ضرورت کے موافق دے دو۔

ایک عیب یہ ہے کہ کوئی کام ان سے کہا جائے تو سن کر خاموش ہو جاتی ہیں۔ کام کہنے والوں کو یہ شبہ رہتا ہے کہ خدا جانے انہوں نے سنا بھی ہے کہ نہیں سنا۔ بعض دفعہ غلطی سے اس نے یوں سمجھ لیا کہ سن لیا ہو گا اور واقع میں نہ سنا ہو تو اس بھروسہ پر وہ کام نہیں ہوتا اور یہ پوچھنے کے وقت یہ کہ کر الگ ہو گئیں کہ میں نے نہیں سنا۔ غرض وہ کام تو رہ گیا اور بعضی دفعہ غلطی سے اس نے یوں سمجھ لیا کہ نہیں سنا ہوگا دوبارہ اس نے پھر کہا تو اس غریب کے لتےلیے جاتے ہیں کہ سن لیا سن لیا کیوں جان کھائی غرض جب بھی آپس میں رنج ہوتا ہے اگر یہ پہلی ہی دفعہ میں اتنا کہ دیتیں کہ اچھا تو دوسرے کو خبر ہو جاتی۔

ایک عیب یہ ہے کہ نوکرانی کو جو بات بتائیں گی یا اور کسی سے گھر میں کوئی بات کہیں گی دور سے چلا کر کہیں گی اس میں دو خرابیاں ہیں ایک تو بے حیائی اور بے پردگی کہ باہر دروازے تک بلکہ بعضے موقع پر سڑک تک آواز پہنچتی ہے۔ دوسری یہ کہ دور سے کچھ بات سمجھ میں آئی اور کچھ نہ آئی جتنی سمجھ میں نہ آئی اتنا کام نہ ہوا۔

ایک اور عیب یہ ہے کہ چاہے جس چیز کی ضرورت ہو نہ ہو پسند آنے کی دیر ہےذرا پسند آئی اور لے لی چاہے قرض ہی ہوجائے لیکن کچھ پرواہ نہیں اور اگر قرض نہ بھی ہو تو بھی اسطرح اپنے پیسے کو بیکار میں کھونا کون سی اچھی بات ہے۔

ایک عیب یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی جاتی ہیں خوا شہر کے شہر میں یا سفر میں ٹالتے ٹالتے بہت دیر کر دیتں ہیں کہ وقت تنگ ہو جاتا ہے اگر سفر میں جانا ہے تو منزل پر دیر میں پہنچیں گی۔ اگر راستہ میں رات ہو گئی تو جان و مال کا اندیشہ ہے اگر گرمی کے دن ہوئے تو دھوپ میں خود بھی تپیں گی اور بچوں کو بھی تکلیف ہو گی اگر برسات ہے تو اول اسکے برسنے کا ڈر دوسرا گارے کیچڑ میں گاڑی کا چلنا مشکل اوار دیر میں دیر ہو جاتی ہے اگر سویرے چلیں گی تو ہر طرح کی گنجائش رہے گی۔

ایک عیب یہ ہے کہ ان کو ایک کام کے واسطے بھیجو جا کر دوسرے کام میں لگ جاتی ہیں۔ جب دونوں سے فراغت ہو جائے تب ہی لوٹتی ہیں اس میں بھیجنے والے کو سخت تکلیف اور الجھن ہوتی ہے۔

ایک عیب یہ کہ کوئی چیز کھو جائے تو بلا تحقیق کسی پر تہمت لگا دیتیں ہیں یعنی جس نے کبھی کوئی چیز چرائی تھی بے دھڑک کہ دیا کہ بس جی اسی کا کام ہے حالانکہ یہ کیا ضروری ہے کہ سارے عیب ایک ہی آدمی نے کیے ہوں اسی طرح اور بری باتوں میں ذرا سے شبہ سے ایسا پکا یقین کر کے اچھا خاصا گھڑ مڑھ دیتی ہیں۔

ایک عیب یہ کہ ان کے سامنے اگر دو آدمی کسی معاملہ میں بات کرتے ہوں اور ان سے کوئی پوچھنے نہ گچھے مگر یہ خواہ مخواہ دخل دیتی ہیں اور صلاح بتلانے لگ جاتی ہیں۔

ایک عیب یہ کہ کہیں سے تھوڑی چیز ان کے حصے میں آئے یا ادنیٰ درجہ کی چیز آئے تو اس کو ناک ماریں گی، طعنہ دیں گی کہ گھر گئی ایسی چیز بھیجنے کی ضرورت کیا تھی ایسی چیز بھیجتے ہوئے شرم نہ آئی۔  



About the author

Noor-e-Harram

i am nor-e-harram from Pakistan. doing BBA from virtual University of Pakistan. Filmannex is good platform for me to work at home........

Subscribe 756
160