ھانس روسلینگ (گیپ مائنڈر اور ٹرینڈالائزر ) ڈیجیٹل خواندگی اور پائیدار تعلیم پر بات کرتے ہوۓ

Posted on at

This post is also available in:

 

 ایف اے: کیا آپ تفصیل سے اپنے اور اپنے پسِ منظر کے بارے میں تفصیل سے بتا سکتے ہیں؟

ایچ آر: میں ایک سویڈش طبی معالج، تعلیمی ، شماریاتی مورخ اور عوامی مقرر ہوں۔ میں بین الاقوامی صحت کا (کارولنسکا اینسٹیٹیوٹ ) میں پروفیسر اور شریک بانی ہوں اور گیپ مائنڈر فاؤنڈیشن کا سربراہ ہوں جو کہ ٹرینڈ لائزر سافٹ ویئر بناتی ہے۔

ایف اے: گیپ مائنڈر فاؤنڈیشن کا شریک بانی ہونے کی حیثیت سے کس چیز نے آپ کو شماریاتی سافٹ ویئر بنانے کے لیئے متاثر کیا؟

ایچ آر: میں اہم عالمی رجحانات بنانا چاہتا تھا جو کہ بہت سے لوگوں کے لیئے سمجھنے میں آسان ہوں اور ممالک کی پرانی تقسیمجو کہ اب نہیں ر ہی اس کو دو حصوں میں دکھانا چاہتا تھا

ایف اے: ٹرینڈ لائزرکے اہم نشانے کون ہیں اور یہ کیسے مدد کر سکتی ہے ان ممالک کی جو کہ ترقی کر رہے ہیں۔ جن کے موجودہ سسٹم میں بنیادی مسائل ہیں۔؟

ایچ آر: گیپ مائنڈر تعلیمی مواد بناتی (شائع کرتی ؍ آشکار کرتی )ہے ہائی سکولوں اور کالجوں کے لئیے۔ ترقی کرنے والے ممالک عام طور پر جنکا حوالہ دیا جاتا ہے۔ روس، برازیل، سعودی عرب، چین ، ایران اور شمالی کوریا، لیکن حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے پاس بھی تعریف نہیں۔وہ دوسرے ممالک جنکی ترقی کی سطح ایک جیسی ہے ان کی شناخت سے باقی تمام ممالک کی مدد کی جاتی ہے

 

ایف اے: کیا یہ ممکن ہوگا کہ آپ کے سافٹ ویئر کو افغانستان میں استعمال کیا جا سکے؟ اگر ہاں، تو افغانستان میں کیسے معاشی اور تعلیمی خواندگی کی کمی کو بہتر کیا جا سکتا ہے ؟

ایچ آر: گیپ مائنڈربیچتی ہے ببل اینیمیشن ساٖفٹ ویئرگوگل کو جو کہ گوگل عوامی ڈیٹا دستیاب ہے تمام ممالک کے ڈیٹا کے ساتھ جینیرک گرافنگ سافٹ ویئر جیسا کہ ٹیب لاؤکس بھی دستیاب بناتا ہے حرکت کرنے والے ببلز کو۔

ایف اے: پ کے کام کے تجربے کی بنیاد پرترقی یافتہ ممالک میں ، آپ کیا سوچتے ہیں کہ ان ممالک کے لیئے درست اعداد و شمار اور ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے لیئے کیا کیا بڑے چیلنجز ہیں ؟

ایچ آر: پر مڈل آمدن والے ممالک تفصیلی ڈیٹا دستیاب رکھتے ہیں، جیسا کہ ترکی اور میکسیکو۔ کم درمیانی اور کم آمدنی والے ممالک قومی سروے سے اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں اور بہت سے معاملات کے لیئے (سب نیشنل) اعداد و شمار کی کمی ہے۔ ایک دوسرے سے لڑنے والے ممالک میں بھی قومی سروے کی کمی ہے۔ دنیاکو صرف ترقی پذیر ممالک کی وضاحت سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایف اے: پ کا افغانستان کے سکولوں میں ڈیجیٹل خواندگی اور پائیدار تعلیم کو بہتر بنانے خواتین کے ملحقہ کام کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ایچ آر: میں اس بارے میں بہت کم جانتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج افغانستان درسگاہوں کے نہ ہونے سے جدید تعلیمی حدود کی طرف بڑھ رہا ہے

فرشتہ فروغ

میرے  بلاگز اور وومنز اینکس کو سبسکرایئب کریں تا کہ آپ سے کوئی بلاگ نہ رہ جاۓ.




About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160