میٹروبس اور چئیر لفٹ

Posted on at


وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید آئے روز تحریک انصاف کے قائدین کو طعنے دیتے رہتے ہیں کہ بتائیں پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت نے کتنے ترقیاتی منصوبے بنائے ہیں، شاید انہی طعنوں کے رد عمل کے طور پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بڑی تعمیراتی منصوبوں کا اعلان شروع کر دیا ہے۔

صوابی میگا سٹی کے طور پر منصوبے کے بعد جس پر علاقے کے عوام احتجاج کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام پر فضا علاقے سیاحوں کے لیے پرکشش بنائے جائیں گے جن میں ناران، سیف الملوک جھیل کے درمیان اٹھارہ میل لمبی چئیر لفٹ لگانا، مالم جبہ اور شوگراں میں چئیر لفٹ لگانا اور سیاحوں کے لیے ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنا شامل ہے۔ان سے صوبائی حکومت کو آمدنی بھی ممکن ہے لیکن سیاح تب ہی جوق در جوق ائیں گے جب صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہترین ہو گی۔

ان منصوبوں سے اگر روزگار ملے گا محض چند علاقوں کے محنت مزدوری کرنے والوں کو ملے گا۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں جن سے صوبے کے عوام اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار ملے۔ایسی صنعتوں کی طرف دھیان دیں جن سے پیداوار میں اضافہ ہو۔ کورین کمپنی کے ساتھ صوبے میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگانے کا معاہدہ قابل تعریف سہی لیکن صوبے میں کتنی زراعت ٹیوب ویلوں کے زریعے ہوتی ہے اس کے مقابلے میں صوبے میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں آبی گزرگاہوں پر بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگانے پر بجلی پیدا کرنے کے یونٹ لگائے جا سکتے ہیں۔

صوبے میں پھلوں کو محفوظ کرنے کے کارخانے لگانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ گلہ بانی کو منظم کرنے کی طرف توجہ دی جا سکتی ہے۔ چھوٹی صنعتوں کے بارے میں منصوبے بنائے جا سکتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ شہباز شریف اگر لاہور میں پچیس تیس میل لمبی میٹرو بس چلائیں تو پرویز خٹک اٹھارہ بیس میل چئیر لفٹ لگائیں۔



About the author

shakirjan

i am shakir.i have done BS (HONORS) in chemistry from pakistan.i know english,pashto and urdu.I love to write blogs.

Subscribe 6767
160