خود انحصار جنگی صحافی مصطفیٰ کاظمی ڈیجیٹل لٹریسی پر افغان میڈیا اور فلم انیکس کے آپریشن پر

Posted on at

This post is also available in:

 

فلم انیکس اور وومنز انیکس ایک نہایت مطلوب کام کررہے ہیں۔ ایک سیاسی بگاڑ کے عرصہ اور خانہ جنگی کے بعد میڈیا ہر دوسرے میدان کی طرح ایک نئی شکل میں تبدیل ہو رہا ہے اور ایک نئے کام کرنے والے نظام کو اختیار کیا ہے۔ اگر ان کمپنیوں کے لیئے نہیں۔میڈٰیا کو ڈیجیٹل کرنے اور تبدیل کرنے کا مقصد پتھر کے دور کی اینالاگ کیسٹس اور ٹیپس سے ایک زمانے کی طرف جہاں ایک میڈیا کی شاخ بغیر کسی فرم کی موجودگی کے ٹوئٹر یا فیس بک یا عام طور پر انٹر نیٹ پر ایک تیزی سے ابھرتا ہوا انقلاب شمار نہیں کیا جائیگا۔

 

مصطفیٰ کاظمی افغانستان میں ایک خود انحصار جنگی صحافی ہیں۔ انہوں نے میشیبل کے ساتھ اشتراک کیا اور وہ طالبان کے حملوں اور جنگ کے دوران اپنی براہ راست ٹویٹس کے لیئے مشہور ہیں۔

 

ایف اے: کیا آپ ہمیں اپنے اور اپنے پس منظر کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟

 

ایم کے: میں کابل میں پیدا ہواتھا۔ میرے والد کو دوسرے صوبے کی طرف بیدخل کیا گیا جیسا کہ انہوں نے انکار کیا تھا فہرست میں جنگی ڈاکٹر کی حیثیت سے شامل ہونے سے۔ میں تین صوبوں میں سکولوں میں گیا اور طالبان کے دور حکومت میں انگریزی سیکھی۔ میں نے اپنی بیچلر کی سند انڈیا سے انگریزی لٹریچر اور صحافت میں کی۔ میں نے ایک بہت لمبے عرصے کے لیئے اقوام متحدہ کے ساتھ کام کیا اور نیٹو کے ساتھ اور آخر کار میں نے افغان آرمی سپیشل فورسز کے ساتھ خدمات سرانجام دیں۔ حالیہ میں ایک جنگی صحافی ہوں جنگ کو  اور سیاسی شورش کو افغانستان اور پڑوسی ممالک میں کور کرتا ہوں۔

 


ایف اے: آپ زیادہ تر کس قسم کی کہانیاں کور کرتے ہیں؟ اور کیوں؟

 

ایم کے: میری کوریج کی توجہ زیادہ تر فوجی اور سیاسی واقعات اور اتفاقیہ واقعات جو کہ افغانستان میں رونما ہوتے ہیں پر ہوتی ہے۔ میں ہر چیز کور کرتا ہوں ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے نیٹو کے فوجیوں کے ناموں تک جو کہ افغانستان میں آپریشنز کے دوران مارے جاتے ہیں۔ ایک سابقہ فوجی اور حال میں صحافی ہونے کی حیثیت سے یہ میری صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ہوگا کہ میں جنگ کو کور کروں اور یہاں اتنے زیادہ صحافی نہیں ہیں جو اس مخصوص میدان پر توجہ دیں گے۔

ایف اے: میڈیا بہت بڑی تبدیلیوں سے گذر رہا ہے کیونکہ آزاد صحافیوں کے لیئے آن لائن بلاگز اور کہانیاں لکھنے کے مواقع بڑھ رہے ہیں آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

 

ایم کے: یہ یقیناَ کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں میڈیا پیدا ہورہا ہےایک نئی شکل اور فارم میں خانہ جنگی کی چار دہائیوں کے بعد۔ افغان صحافی اور میڈیا آؤٹ لیٹس نے واضح طور پر ان حقائق کو جان لیا ہے کہ انہیں راستے پر رہنا چاہئیے گلوبل ٹرینڈز کے ساتھ میڈیا اور صحافت میں۔ اور وہ اس مقصد کو تقریباَ حاصل کر چکے ہیں۔ اور مذید یہ کہ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ بولنے کی آزادی دینے میں افغانستان حکومت مدد گار ہے۔ یہ نئی تبدیلیوں کے ساتھی جن کو میڈیا قبول کر رہا ہے افغانی صحافت اور میڈیا فلیڈز کے کام کو سرانجام دیں گے، بہت کامیابی سے اور تب بہت قابل اعتماد قریبی مستقبل میں۔


ایف اے: آپ کئی عالمی پبلیکیشنزکے ساتھ اشتراک کر رہے ہیں جو کہ افغانستان سے براہ راست خبریں نشر کرتے ہیں۔آپ افغانی صحافت کے اشتراک کو بیرونی پبلیکیشنز کے ساتھ کسطرح دیکھتے ہیں؟

 

ایم کے: انہوں نے بیرونی طباعت کے ساتھ قابل توجہ اشتراک کیا۔ حقیقت میں اگر وہ اپنی مدد اور اشتراک کو جاری جاری رکھیں گے میڈیا کی شاخیں افغانستان سے باہر افغانستان کی خبروں کو کور کرنے میں بہت بڑی پریشانی کا سامنا کریں گی۔بہت سے افغانی صحافی ہیں جو کہ ان پبلیکیشنز کے لیئے خبروں کا با اعتماد ذریعہ بن چکے ہیں۔ حتی کہ ہمارے پاس ایسے صحافی بھی ہیں جو کہ پورے ملک کی خبروں کو صرف اپنی ذات کے ذریعے کور کرتے ہیں زیادہ سٹاف کی مدد کے بغیر۔ جو یہ ثابت کر تا ہے کہ ان کا اشتراک ضروری ہے۔

 

 ایف اے: آپ کمپنیوں کے متعلق کیا سوچتےہیں جیساکہ فلم انیکس جو کہ ڈیجیٹل خواندگی کو ترقی پذیر ممالک جیساکہ افغانستان میں فروغ دے رہی ہے؟

 

ایم کے: وہ بہت زیادہ مطلب کام کررہے ہیں۔ ایک سیاسی شورش اور خانہ جنگی کے بعد، میڈیا ہر دوسرے میدان کی طرح ایک نئی شکل میں تبدیل ہورہا ہے اور ایک نئے کام کرنے والے نظام کو اختیار کیا ہے۔۔ اگر ان کمپنیوں کے لیئے نہیں۔میڈٰیا کو ڈیجیٹل کرنے اور تبدیل کرنے کا مقصد پتھر کے دور کی اینالاگ کیسٹس اور ٹیپس سے ایک زمانے کی طرف جہاں ایک میڈیا کی شاخ بغیر کسی فرم کی موجودگی کے ٹوئٹر یا فیس بک یا عام طور پر انٹر نیٹ پر ایک تیزی سے ابھرتا ہوا انقلاب شمار نہیں کیا جائیگا۔

حال  ہی  میں انہوں نے فلم انیکس میں شمولیت اختیار کی ھے مصطفی کاظمی کو یہاں سبسکرائیب کریں 

فرشتے فروغ

میرے بلاگز اور وومنز انیکس کو سبسکرائب کریں تاکہ آپ سے اگلے مضامین رہ نہ جائیں۔



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3477
160