(part 2)محمد علی جناح ایک عظیم سیاستدان

Posted on at


صرف قائداعظم جیسا لیڈر ہی اتنے کم وقت میں پاکستان حاصل کرسکتا تھا اور محمد علی جناح نے اس وقت ایسا ہی کیا ۔ لیکن قائداعظم کو بہت سی ایسے امیدیں تھیں جو پاکستان بنتے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگیریس کی وجہ سے ٹوٹ گئی ۔ یعنی قائداعظم کو امید تھی کہ مسلم اکثریت کے سارے علاقے اسلامی مملکت کا حصہ بنے گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور تقسیم کے وقت بہت سے مسلم اکثریتی علاقے انڈیا میں شامل کر لیے  گئے جیسے پنجاب کو دو حصوں کو تقسیم کر کے آدھا پورا صوبہ جو پاکستان کا حصہ بننا تھا اسے بھارت میں شامل کر لیا گیا اور  اس کے علاقے فیروز  پورہ، بٹالہ اور فضلکہ کے علاقے مسلمان اکثریت ہونے کے باوجود بھارت کا حصہ بنے۔  قائداعظم کو بہت سا کام ابھی کرنا تھا کہ وہ نئی قوم کی پیدائش کے موقع پر شدید بیمار پڑ گئے اور بیماری کے دوران ہی وہ معجزانہ طور پر بہت کچھ کرنے میں کامیا ب ہو گئے اور قائداعظم سارا دن کھانسی میں خون تھوکتے ہوئے بمشکل سانس لیتے تھے۔


اگست 1947ء کو  قائداعظم پاکستان کے قیام کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاح اور گورنر جنرل کی حیثت سے ملک کے حکمرانوں سے خطاب کرنے کے لیے کراچی چلے گئے ۔  قائداعظم نے اس وقت ایک عظیم قوم کے منتخب شدہ افسران  کو اپنا رہنما اصول بتا یا اور سب کو اسے اپنانے کی تلقین کی یعنی " انصاف اور مکمل غیرجانبداری"۔ قائداعظم نے تما م سرکاری افسروں کو تلقین کی کہ وہ قوم کے خادم ہیں اور انھیں ایک خادم کی طرح اپنی ذمہ داریاں سر انجام دینی ہیں  اور قائداعظم نے سب کو یہ بھی بتایا کہ ہمیں اس بات کو یاد رکھنا ہے کہ "پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کی سر زمین ہے "۔ اگرچہ قائداعظم بذات خود ایک امیر  آدمی تھے لیکن انھوں نے ہمیشہ رحمدلی اور دانائی سے کام  لیتے ہوئے غریب لوگوں پر توجہ دی ۔ پاکستان کے قیام  کے بعد انھوں نے سب کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت  ہمارا پہلا کام امن و امان قائم کرنا ہے تا کہ عوام کی جان و مال اور مذہبی عقائد کی ریاست مکمل طور پر حفاظت ہو سکے۔ قائداعظم نے سرکاری ملازمین کو رشوت اور لوٹ مار جوکہ زہر قاتل ہیں کے خلاف خبر دار کیا اور اقرباء پروری اور بدعنونی کی برائیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ ایسی برائیوں کو بےدردی سے کچلنا چاہیے۔ جناح کی زندگی انصاف پسندی، سچائی اور قانون سے عبارت ہے۔  وہ دیر پا اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے۔بلاشبہ قائداعظم اپنی زندگی کے آخری وقت تک  سخت یعنی کسی کے سامنے نہ جھکنے والے، ہمیشہ حق پر اور سچے رہے۔


محمد علی جناح کی مرنے سے پہلے  بہت بڑی خوہش تھی کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوستانہ  اور گرم جوش تعلقات ہوں ۔ گورنر جنرل کی حیثیت سے انھوں بہت کم وقت گزارا لیکن اس دوران ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ کسی طرح انڈیا اور پاکستان کے درمیان سے دشمنی کی دیوار کو گرایا جائے۔  لیکن تقسیم کے چند ماہ بعد ہی کشمیر میں جو جنگ شروع ہوئی اس نے قائداعظم کے اس پر امید خواب کو تلخ حقیقت میں تبدیل کر دیا۔ کشمیر کے مسئلے کو پوری دنیا کی کوئی کی بھی طاقت حل نہیں کر سکی  ۔ قائداعظم نے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی قوم کو پریس کے ذریعے واضع کیا کہ " میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کا حق تسلیم کر لینا چاہیے نہ کہ ہم دنیا سے کہیں"۔ اس کے بعد انھوں نے مزید بھارت کے حکمرانوں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک کی حیثیت سے میرا نہیں خیال کہ آپ نیک خوہشات کی کمی محسوس کریں  گے۔ لیکن قائداعظم کی بہت کوششوں کے باوجود نہ ہی ان کی زندگی میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکا اور نہ ہی ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد۔ قائداعظم جیسا عظیم لیڈر 11 ستمبر 1947ء کو ہم سے جدا ہوا۔ پاکستان کے قیام اور بقاء کے لیے قائداعظم نے جو قربانیاں دیں پوری قوم ہمیشہ ان کو یاد دکھے گی ۔



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160