افغانستان کی معاشی ترقی کے لیے افغان مردوں کے شانہ بشانہ افغان عورتوں کو کام کرنےکی ضرورت ہےـ

Posted on at

This post is also available in:

افغانستان کی طرح روايتی معاشرہ ہزاروں سال ميں تشکیل پاتا ہے دوسرے ثقافتی پس منظروالوں کے لیے اگرچہ ثقافتی تفريق ایک چيیلنج بن جاتاہےـ ليکن افغانستان اور دوسرے مشرقی وسطی کے ممالک کے لے یہ ثقافتی تفريق ایک اچھا موقع ہےـ

 

 اور نئی کمپنيوں کے لے بہت اہم ہےـBusinessmenیہ ثقافتی اور سا‏ئنسی تفريق افغان تاجروں/ خاص طور پر مخصوص پرجيکٹس کے لے کیونکہ جو بڑے ادارے جيسے گوگل، فیس بک اور یوٹیوب کی یوروپی مارکیٹ ایک  مخصوص اجارہ داری ہےـ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 افغانستان کمپنیوں کو آ ئی ٹی، سوشل اور ڈیجٹل میڈ یا کی ضرورت ہےـ زراعت، تعمیراتی کام، کان کنی اور خام مال کے استمال میں ایک مستحکم ڈيجيٹل اور آن لائن تعلق نہیں ـ ڈیجٹل میڈ یا میں برتری سے سرمایہ کار متوجہ ہونگے اور کا میاب کہانیوں سے افغان تاجر مرد اور عورت کے لیے مزید مواقع پیدا ہونگےـ

اس ترقی کا انحصارتعلمیی میعارپرہوگا اس لیےہم افغانستان میں سکول بنارہےہیں ـ اور ہرات میں انٹرنیٹ کلاس روم تاکہ نوجوان سوشل میڈیا میں اہم کردارادا کرسکےـ یہ افغانستان اور عالمی میعشت میں عورت کہ کردار بھی نمایاں کرے گی ـ افغان عورتیں / خواتین کی بولنےکی صلاحیت اور ڈیجٹل میڈ یا میں کمپنی منیجر کے لیے بہترہوگا ـ

 

 

 افغانستان جہاں پر کاروبار زیادہ ترمردوں کاکام ہےـ آ ئی ٹی اور ڈیجٹل میڈ یاکے علاوہ اورعورت کی خدمات کمپنیوں اور وہ کمپنیاں جہاں پر مرد اور خواتین نمایاں ہےاہم کردارادا کرےگاـ افغان مردوں کو اپنےخواتین کی اپنی کمپنیوں کی ترقی کے لیے آن کی آن لائن، فائلوں کی نظام، ویڈیوز کا انتظام اور لکھے ہویے موئیز تشہیری موئیز کو شائع کرنے اور جغرافیائی موئیز کواکھٹا کرنے کے لیے ضرورت ہےـ

‏ افغانستان میں عورتوں کی حقوق کے لیے ڈیجٹل اور سوشل میڈ یا اہم کردار ادا کریں گےـ اورافغانستان کی خواتین افغان میعشت اور دیرپا نظام کے لیے اہم کردار ادا کریں گےـ
.



About the author

AFSalehi

A F Salehi graduated from Political Science department of International Relation Kateb University Kabul Afghanistan and has about more than 8 years of experience working in UN projects and Other International Organization Currently He is preparing for Master degree in one Swedish University.

Subscribe 201
160