مریم وردک ،مسعود عزیزی افغانستان فارورڈ بورڈ کے ممبران کی افغان نوجوان نسل کی با اختیاری پر بات چیت

Posted on at

This post is also available in:

advertising

 

مسعود عزیزی قندھارافغانستان میں پیدا ہوۓ۔۲۰۰۴ میں اپنے سیاسی کیریئر کا اغاز کیا ۔اور قندھار کے گورنر گل اغا شیرزیئ کے معاون خصوصی بن گۓ تھے۔انکے اچھے کام کے نتائج کی وجہ سے افغٓن صدر نے انکو ننگرھار صوبے کے چیف آف سٹاف کےعہدےپر فائز کر دیا ۔جہاں پر انہوں نے صوبہ کی نمائندگی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کی۔

وہ پوست کی کاشت کی کمی کےپروگرام کے زمہ دار تھے۔ان کے کام کی وجہ سے ننگرھار صوبہ ایک زیادہ پوست  کے پیداوری زون سے ایک پوست فری زون میں تبدیل ہو گیا۔اور غیر قانونی گروپوں کو اسلحے سے پاک کرنے کے  پروگرام کو بھی کامیابی سے  ترقی دی۔۲۰۰۸ میں پوست کی کاشت کے حوالہ سے افغان صدر نے انکو ایک ہرو کے میڈل سے نوازا۔

انہوں نے مقامی لوگوں اور افغان حکومت کے درمیان فرق کو کم کیا اور ایک اعتماد کا ماحول پیدا کیا۔اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے وہ باغیوں کا ہدف بن گۓ  تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مرکزی افغان حکومت کے ساتھ کام کیا۔ مثال کے طور پر افغانستان میں نیٹو کمانڈروں جنرل پیٹریاس اور جنرل میک کرسٹل کے ساتھ۔۔۔ یورپ اور امریکہ میں ملاقاتوں کے دوران  بھی بہت سے مغربی سیاست دانوں سے ملاقات کی۔اور  سکے علاوہ امریکی صدر اوبامااور جارج ڈبلیو بش جونیئرسے  بھی ملاقات کی ۔۔

  مسٹر عزیزی نے  قانون میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور ایک برطانوی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز.

کی ڈگری حاصل کی ہے،انہوں نے اپنے کام سے متعلق بہت سی ورکشاپوں میں بھی شرکت  کی ۔مثال کے طور پر میڈیا ،مینیجمنٹ ،قیادت اور مقامی حکومتوں کے بارے میں ،

اس کے علاوہ جناب عزیزی بہت محنتی۔وقت کے پابند ۔با کردار اور قیادت  کی مہارت رکھتے ہیں ۔انہیں پشتو ،دری ،انگریزی اور اردو زبانوں میں روانی حاصل ہے

 

 

 

مریم وردک، کابل افغانستان میں پیدا ہویئ تھیں مگر امریکہ میں تعلیم حاصل کی اور وہیں پر بڑی ہویئں۔

محترمہ وردک نے انڈرگرجویٹ تعلیم اعزاز کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات میں حاصل کی۔جلد ہی محترمہ وردک نے سماجی انصاف و سماجی تبدیلی میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری  حاصل کی۔محترمہ وردک انسانی ہمدردی کی کوششوں کی طرف بہت مائل تھیں

فلم اینکس:ہمیں اپنے آپ اور فارورڈ افغانستان کے بارے میں تھڑا سا بتایئں۔آپ کسطرح زاتی طور پر اس میں ملوث ہوۓ۔اس مشن میں کس نے آپ کی حوصلہ افزایئ کی۔

مسعود عزیزی:میں قندھار افغانستان میں پیدا ہوا۔اورجب۲۰۰۴ میں میں  نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تو قندھار کے گورنر گل آغا شیرزیئ  کا معاون خصوصی بنا ۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر میں نے صوبےکی اچھی نمایندگی  کی تو میرے کام کے اچھے نتائج کی وجہ سے مھجے افغان صدر نے ننگرھار صوبے کا چیف آف سٹاف مقرر کیا میں افغانستان کے مستقبل کے  حوالہ سے اصل میں  افغانستان فارورڈ کا بانی تھا۔

میں نے محسوس کیا کہ نوجوان لوگ تاریخ کو تبدیل کرنے  میں بہت اہم کردار ادا کرتے  ہیں ۔ہم اپنے آپ  اپنے دوستوں اور کمیونیٹیز کو ایک مثبت تبدیلی کی طرف متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔

اس مشن کے بارے میں جو پیغام سب سے حوصلہ افزا ہے وہ یہ ہیکہ نوجوان لوگ  سماجی تبدیلی لانے کاے بہترین ایجنٹ ہو سکتے ہیں ،

ہم نوجوانوں میں ملک کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اور خواہش ہے۔(آپ کو ایک خفیہ اطلاع دوں ہم لوگ ایسا کرنے کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔جیسا کہ یہ انٹرویو !

مریم وردک:

میں ایک افغان امریکی ہوں جو کہ افغانستان واپس آیئ تا کہ اپنے  ملک کی ترقی  میں حصہ لے سکوں ۔جب میں بڑی ھو رھی تھی تو میں نے افغانستان کا دورہ کیا۔ لیکن ۲۰۰۴ میں میں نے یو ایس ایمبیسی میں کام شروع کیا ایک سال کیلۓ ایک ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر۔ اس وقت مجھے اپنے ملک کی ترقی میں دلچسپی پیدا ہو گئ۔  میری گریجویٹ ڈگری کی تکمیل کے بعد میں ایک کیریئر کے عزم کے لئے ملک واپس آئ۔۔اپنے قیا ؤم کے دوران مجھے اپنے ،ملک سے پہلے سےاور  بھی زیادہ محبت ہو گئ تھی۔جب میں واپس آیئ تو مجھے کام تلاش کرنے کیلۓ دو ماہ جدوجہد کرنی پڑیاب میں کام کر رھی ہوں ۔۔انسداد منشیات کی وزارت میں اور اسکے ساتھ ایک پارٹ تئم استاد بھی ہوں۔

اپنے کاموں کے دوران میں نوجوانوں کے کاموں میں بہت ملوث رہی ہوں اور اسی دوران ایک تقریب میں میری چیئرمین مسوعد عزیزی سے ملاقات ہویئ اور ہم نے آپس میں خیالات کے تبادلے  شروع کۓ۔انہوں نے افغان ترقی کے وژن پر بیان دیا اور کہا کہ کیسے یہ افغان حکومت پر اشرانداز ہو گا۔ اور کیسے افغانستان کا آیئن نوجوانوں کو مہیا کی جانیوالی سہولیات کو تحفظ دیگا۔۔۔ایمانداری سے اس نے میری توجہ حاصل کی اور یہ بلکل ایسا ھی تھا جیسا کہ مین تلاش کر رہی تھی۔

مسٹر عزیزی نے مجھ سے کچھ خیالات کا اشتراک کیا اور میری دلچسپی۔فلسفے اور تحقیق کی وجہ سے مجے ڈپٹی چیئرمین کی پوزیشن کی پیشکش کی۔ اسکے  بعد  سے ہم نے نوجوانوں کواس میں ملوث کرنا اور انکو  با اختیار بنانے کیلۓ فعالیت شروع کی اور (ووٹر تعلیم) کیلۓ افغانستان ایک انتہایئ اہم موڑپر ہے

افغانستان فارورڈ کا مشن ہے جونوجوان پیشہ ور افراد کو متحد کرنے کے لئے نیٹ ورک اورمختلف نسلی گروہوں کی طرف سے طالب علموں کوقبائلی عمائدین کی طرف سے تحقیق کی معلومات،مذہبی علماء اور حکومت کے رہنماؤںکے بارے میں  معلومات لانے کے لئے خیالات کا تعاون یہ نواجوان نسل کی طرف سے ملک مزہب ،اور ثقافت  میں ایک مثبت تبدیلی کی طرف ایک قدم ہے۔

مجھے افغانستان کے نوجوانوں پر روشنی ڈالنے کی اجازت دیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق،افغانستان کی آبادی کا ۶۸ فیصد ۲۵ سال سے کم عمر میں ہیں ۔یہ اگلی نسل کی  آبادی ھے۔یہ جبر،بے روزگاری ،کم اجرت ،باغیوں بعض صورتوں میں دہشت گردی اور غربت کا سامنا کریگی۔اور جس چیز نے مجھے حوصلہ دیا وہ ہے افغانستان فارورڈ جسکے زریعے ملک اور نوجوانوں کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے، اور یہ پروگرام  نوجوانوں کو کھویئ ہویئ نسل نھیں بننے دیگا

ایف اے: کسطرح افغان فارورڈ کے زریعے افغانستان کے نوجوان افغانستان کے مستقبل  کو بدلیں گے؟

دونوں نے جواب دیا کہ عام طور پر افغانستان کے نوجوان پر پرُ تفریح ۔مزاقی ،جوشیلے،ایماندار ،سادہ اور مہمان نواز ہیں۔

افغٓنستان فارورڈ کے کارمندوں کا یاک بہتریں پہلو یہ ہیکہ یہ نوجوان لوگ یکٹھے ہو کر آتے ہیں اور ان کے آبایئ شہروں میں انکو جو مشکالات پیش آتی ہین اسکے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہیں ۔ان سے نمٹنے اور تفصیلی کاروایئ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے ان نظریات کو وہ افغانستان فارورڈ کے بورڈ میں پیش کرتے ھیں ۔تکہ ان تجاویز پر عملدرآمد کیلۓ وہ کافی حمایت حاصل کر سکیں ۔میں مستقبل کے حوالے سے افغانستان فارورڈ  کے کئ غیر ملکی  ارکان سے ملا جو کہ مستقل طور پر ان کی زندگی اور معاشرے  کی بہتری کیلۓ کام کر رھے ہیں ۔افغانستان فارورڈ کے کورس میں افغانستان  کی بہتیری افغان نوجوانوں کے عمل اور مشاورت سے سے کی جاتی ھے۔

ایف اے:کیا افغانستان فارورڈ دوسرے نوجوانون کے اداروں پر بھی یقین رکھتا ہے یا نہیں ؟اگر ہاں تو کسطرح؟

دونوں نے جواب دیا ۔۔۔

جی ھاں کیوں نہیں:اس وقت ہماری ساری توجہ انتخابات پر ہے۔۔ ہم نے  کئ نوجوانوں کی تحریکوں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ ان کو بھی ووٹر تعلیم کی منصوبہ بندی میں شامل کیا جا سکے۔ہم نے آیئڈیا سے رابطہ کیا۔افغانستان کی یوتھ یونین اور اقتداری فاؤنڈیشن ،اور کئ دوسرے اداروں سے بھی رابطہ کیا۔ تا کہ افغانستان  کے نوجوانوں کو انتخابات سے متعلق تعلیم دینے کے کاموں میں مل کر کام کیا جا سکے۔اب تک ہم انکے ساتھ  کام کر کے کامیاب ہیں۔ہم ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ حا ل ہی  میں افغانستان کو اسکے چند افراد کی بینالاقوامی طور پر پہچان کی وجہ سے افغانستان فارورڈ کو ایک اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کام میں آیئڈیا کے ارکان ،یوتھ یونین اور دوسری تنظیموں کے ارکان نے ہماری مدد کی۔ ہم ایک دوسرے سے بہت متاثر تھاے اور ھم نے ایک بہت احترام والی سطح ان کیلۓ فراہم کی

 افغانستان  فارورڈ کے ممبران کا ناٹو کے سفیروں  کے ساتھ فوٹو

افغانستان فارورڈ کی سوچ  کرپشن کے خلاف ،تشدد،تعصب اور نوجوانوں کو با اختیار بنا نے کیلۓ ہے،آپ اسکی کچھ مثالیں دے سکتے ہیں کہ آپ کیسے نوجوان لوگوں کیساتھ کام کرتے ہیں ۔

مریم وردک: میری شمولیت سے پہلے، جناب عزیزی نے کرپشن ،تشدد اور تعصب کے خلاف بہت محنت کی ،انہوں نے جلال آباد میں اینٹی کرپشن کیخلاف ایک مہم چلایئ۔اور  نوجوانوں کے ساتھ ایک اینٹی کرپشن کرکٹ ٹورنامنٹ اور ایک شطرنج ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا۔ جس کام نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ جناب عزیزی کا ایک نجی ورکشاپ کا انعقاد تھا جسمیں نوجوانون کو انکے مسائل کیلۓ حکومت کو شکایات فارم کی خانہ پرُی کرنا سکھایا گیا۔۔ میری شمولیت کے بعد افغانستان فارورڈ بورڈ کے ارکان نے کئ خیا لات پیش کیۓ کہ کیسے افغانستان کی پالیمنٹاور صدارتی دفتر کو نوجوان اپنے خدشات کے بارے میں لکھیں۔

ایف اے: افغاانستان  فارورڈ کی تشکیل میں آ پ کو کیا مشکلات درپیش ہویئں اور کیا اب بھی آپ کو مسایئل کا سامنا ہے۔؟

مریم وردک : شروع میں جناب عزیزی اور انکی ٹیم کو مالی مشکلات کا سامنا تھا ۔جیسا کہ اس میں سب کچھ ہم زاتی طور پر خرچ کر رھے ہیں۔اور دوسری رکاوٹ یہ تھی کہ یہ نوجوانوں کی پہلی سول سوسایئٹی تھی جو اکہ وزارت انصاف میں رجسٹرڈہے۔مسئلہ یہ تھا کہ لوگ یہ نہیں سمجھ رھے تھے کہ یہ سول ہے سیاسی کیوں نہیں ،

تیسری رکاوٹ یہ تھی کہ نسلی گروہوں کے درمیان توازن قئم کرنا تھا ۔ہم دنیا کے تمام حصوں سے ارکان چاھتے تھے۔ہم اب بھی دور دراز صوبوں سے ارکان کے حصول میں مشکلات ہیں ۔اور فی الحال جو مشکل ہے وہ لوگوں کی زہنیت میں تبدیلی تا کہ وہ خود تبدیلی کی طرف راغب ہو جایئں ۔نوجوان اب یہ جانتے ہیں کہ کیسے  یقین سے  بولیں مگر ہم نے محسوس کیا  ھے  کہ وہ اپنے آپ  میں یقین رکھنے میں مشکلات سے دوچار ہیں 

ایف اے: کس طرح نوجوان لوگوں کو افغانستان فارورڈ کے ذریعے انتخابی عمل میں شامل کیا جائے گا؟

دونوں نے جواب دیا کہ افغانستان فارورڈ کو لگ رھا ھے کہ نوجوان لوگ تبدیلی کے  سفیر ہوں گے۔ ہر فرد کیلۓ مختلف ترجیحات ہیں۔لیکن ہم سب لوگ افغانستان میں امن اور  استحکام چاھتے ہیں۔ہم نے کئ کمیونیٹیوں کیساتھ ملکر تفریحی تہوار وں کی منصوبہ بندی کی ہے۔اس کام کے دوران ہم نے ان سفیرون کے ساتھ رابطہ کی کوشش کی تاکہ انکو ووٹنگ کی اہمیت ،انکے حقوق کیسے رجسٹر کرنا ہے اور کہاں رجسٹر کرنا ہے،ہم ان تفریحی میلوں میں ان کو یہ بتانا چاہتے ہین کہ ہم یہ اس لیۓ کر رھے ہین تا کہ ان کو حوصلہ مل سکے  اور یہ ہم ان پر مسلط نہیں کرنا چاھتے،

ایف اے: کس طرح نوجوان لوگوں کو افغانستان کے انتخابی عمل میں شامل کیا جائے گا افغانستان فارورڈ مقامی یونیورسٹیوں میں مجازی پولز  کھو لیں گے۔

اس سےپہلے ہم  طالبعلموں کو اپنے لیۓ ایک خیالی  امیدوارمنتخب کرنے اور وہ کس کی نمائندگی کرتے ہیں اس میں مدد کریں گے۔اورا سکے ساتھ سیاسی اشتہرات کے بارے میں بتایئں گے کہ یہ کیا ہیں اور نا خسواندہ ووٹروں کو اس بارے  میں بتیئں گے کہ کیسے انتخابات میں حصہ لیں

مسعود عزیزی کا انتخابات کے بارے میں ایک انٹرویو

ایف اے : آپ کو کیا لگتا ہیکہ کسطرح افغانستان فارورڈ کسطرح مستقبل میں افغانستان کی پالیسی بنانے پر اثر انداز ہوگا ۔؟

دونوں نے کہا کہ نوجوان لوگ قومی  آبادی اور تشکیل کا ایک اہم حصہ ہیں ،لیکن ابھی تک اسمیں عوامی پالیسی بنانے اور اس میں اثرورسوخ کے شامل کیۓ جانے کے عمل کی ابھی تک اسمیں  عکاسی نہیں ہے،اس میں اثر ورسوخ اور شمولیت کم ہے  یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی بعد میں تفتیش کی جایئگی اور جو اسکے زمہ دار ہیں فوری طور پر اسکے جواب دینگے۔

اور موجودہ باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہیکہ افغانستان کی نوجوان نسل ہی ایک مثبت تبدیلی ہیں جو کہ اسکی ضرورت ہے۔

ہمارے انسانی حقوق کے نقطہ نظر کی بنیاد پر نوجوانون کی ترقی ۔با اختیاری ،جمہوریت ،وکالت  کے باعث ہم ایک پریشر گروپ کے طور پر ہم ان کو متاثر کریں گے تا کہ ملک کی بہتری اور عوام کے لۓ  پالیسیاں  بنایئں  

مسعود عزیزی ایک ٹیوی انٹرویو کے بعد نوجوانوں سے بات کرتے ہوۓ

فرشتہ فروغ

میرے بلاگز اور ویمنز اینکس کو سبسکرایئب کریں تا کہ آپ میرے مزید بلاگ پڑھ سکیں 



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3477
160