ٹیسٹ کے امتحان۔۔2۔۔

Posted on at



نظر ثانی شدہ قومی نصاب 2006ء اختیار کرنے کے معاملے میں 2012ء میں چیئرمینوں کی انٹر بورڈ کمیٹی (آئی بی سی سی) نے اے کے یو۔ ای بی اور وفاقی بورڈ کی پروی کے حق میں ووٹ دیا۔

                       

اس کمیٹی کے رائے یہ تھی کہ بچوں مین محض یا دواشت کی مہارت پیدا کرنے کے بجائے ان کی سوچ بچار کی وسیع تر صلاحیتوں کے اظہار کی تربیت دینا ضروری ہے۔ تاہم امتحانی بورڈز لاکھوں کاغزات سنبھالنے میں تو ماہر ہیں لیکن ان کاغزات پر جو لکھا ہے اس کی درست پڑتال صکرنے والے ماہرین سے عاری ہیں۔

       

صوبائی امتحانی بورڈز نے محض ابھی اس امر کی ابتدا کی ہے جس کے تحت اسکول کے اساتزہ کو یہ سمجھایا جا سکے کہ انہیں چھپے ہوئے صفحات کے بجائے ان تصورات اور خیالات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جا ان صفحات سے طلبا اخز کر سکتے ہیں۔ تاہم بورڈز مکمل طور پر اس صلاحیت سے لیس نہیں کہ اس نہایت اہم تبدیلی کے لئے اساتزہ کو تیار کر سکیں۔

             


انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب امتحانی بورڈز کی عملہ سازی  پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔ بلوچستان میں اپنے امتحانی عمل (پراسینسگ) کو حال ہی میں کمپیوٹرائز ڈکیا ہے۔ پنجاب نے مزید آگے بڑھتے ہوئے مختلف مضامین کی ذمہ داری مختلف بورڈز کع سونپ دی ہے چنانچہ اب کوئی ایک کسی طالب علم کے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

 

طلبا کے مجموعی نمبروں پر ناجائز طور پر نظر انداز ہونے کی کوشش اب بہت دشوار ہو چکی ہے۔  بد قسمتی سے، جب تک صوبائی بورڈز امیدوارون کی طرف سے ان کی امتحانی کاپیوں پر نظر ثانی کی اپیلوں سے انکار کریں گے، تب تک‘ ناجائز ذرائع‘ کے استعمال کی ترغیب موجود رہے گی۔

    



About the author

eshratrat

i really like to write my ideas

Subscribe 769
160