عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی،جہنم بھی

Posted on at



اخلاص نیت کے ساتھ جوکام ہوتاہے اس میں بڑی برکتیں ہوتی ہیں انسان کادل ودماغ اس وقت انتہائی تروتازہ ہوتاہے جب وہ اخلاص عمل کے ساتھ اخلاص نیت کوبھی شامل کرتاہے جب عمل سے ریاکاری کی بوآناشروع ہوتی ہے تومایوسی بھی انسان کودکھائی دیتی ہے ،اللہ کی رضاوخوشنودی کے لیے جوعمل ہوتاہے اس میں سکون وقراردکھائی دیتاہے ،ریاکاری کی وجہ سے عمل کالطف وسرورچلاجاتاہے آج ہماری بھی یہی حالت ہے کہ عمل نیک کرتے ہیں لیکن لطف وسرور نہیں ملتااس کے نہ ملنے کی بنیادی وجہ عمل میں دکھاواہے ایسے عمل کاکچھ فائدہ نہیں جس میں ریاکاری ہو۔
اسی وجہ سے شاعر مشرق نے کیاخوب ہی فرمایا
 عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی ،جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
یعنی عمل سے زندگی جنت بھی بن سکتی ہے اورجہنم بھی ،جیساعمل ہوگاویساہی انجام ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :ایسے نمازیوں کے لیے بڑی خرابی ہے جواپنی نماز سے غافل ہیں ،جوایسے ہیں کہ (جب نمازپڑھتے ہیں تو)دکھلاواکرتے ہیں (ماعون)
نماز سے غافل ہونے میں بے دھیانی سے پڑھنا،قضاکر کے پڑھناکبھی پڑھناکبھی نہ پڑھناسب شامل ہے ،اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام بیماریوں سے محفوظ فرمائے (آمین)
٭انگلیوں سے اشارہ٭
حضرت انس بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ کاارشاد نقل فرماتے ہیں کہ انسان کے براہونے کے لیے اتناہی کافی ہے کہ دین یادنیاکے بارے میں اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیاجائے مگریہ کہ کسی کواللہ تعالیٰ ہی محفوظ رکھیں (ترمذی)
صاحب مظاہرحق اس حدیث شریف کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ انگلیوں ست اشارہ کامطلب مشہور ہوناہے ،حدیث میں مراد یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں شہرت کاہونادنیاکے بارے مشہور ہونے سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ شہرت حاصل ہونے کے بعد اپنے بڑائی کے احساس سے بچناہرایک کے بس کاکام نہیں ،البتہ کسی کی شہرت غیراختیاری طور پراللہ تعالیٰ کی طرف سے ہواوراللہ تعالیٰ اسے محض اپنے فضل سے نفس اورشیطان سے محفوظ رکھیں توایسے مخلصین کے حق میں شہرت خطرناک نہیں ہے ۔
شہرت حاصل کرنے کے پیچھے بھی ریاکاری ہی کارفرماہوتی ہے اورہاں اللہ پاک کی طرف سے جوشہرت انسان کوملتی ہے وہ دائمی اورغیراختیاری ہوتی ہے
٭دکھاواشرک ہے ٭
حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن مسجد نبوی میں تشریف لے گئے تودیکھاحضرت معاذبن جبل ؓ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رورہے ہیں ۔
حضرت عمرؓ نے پوچھا:آپ کیوں رورہے ہیں ؟
انہوں نے کہا:مجھے ایک بات کی وجہ سے روناآرہاہے جومیں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاتھا:تھوڑاسادکھاوابھی شرک ہے ۔اورجس شخص نے اللہ تعالیٰ کے کسی دوست سے دشمنی کی تواس نے اللہ تعالیٰ کوجنگ کی دعوت دی اوربے شک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت فرماتے ہیں جونیک ہوں ،متقی ہوں اورایسے چھپے ہوئے ہوں کہ جب موجودنہ ہوں توان کوتلاش نہ کیاجائے اورموجودہوں تونہ انہیں بلایاجائے اورنہ انہیں پہچاناجائے ،ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ ہیں ،وہ فتنوں کی کالی آندھی سے (دل کی روشنی کی وجہ سے اپنے دین کوبچاتے ہوئے)نکل جاتے ہیں ۔(ابن ماجہ)
٭بڑابننے کی چاہت ٭
حضرت مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:وہ دوبھوکے بھیڑئیے جنہیں بکریوں کے ریوڑمیں چھوڑدیاجائے بکریوں کواتنانقصان نہیں پہنچاتے ہیں جتناآدمی کے دین کو،مال کی حرص اوربڑابننے کی چاہت نقصان پہنچاتی ہے(ترمذی)
٭اللہ کی ناراضگی٭
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جوشخص دوسروں پرفخر کرنے کے لیے ،مالداربننے کے لیے ،نام ونمودکے لیے دنیاطلب کرے اگرچہ حلال طریقے سے ہواللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہوگاکہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہونگے ،اورجوشخص دنیاحلال طریقے سے اس لیے حاصل کرے تاکہ اس کودوسروں سے سوال نہ کرناپڑے اوراپنے گھر والوں کے لیے روزی حاصل کرسکے اوراپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کر سکے تووہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گاکہ اس کاچہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتاہواہوگا(رواہ البیہقی)
٭رب راضی تے جگ راضی ٭
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جوشخص لوگوں کوخوش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کوناراض کرتاہے تواللہ تعالیٰ اس پرناراض ہوتے ہیں اوران لوگوں کوبھی ناراض کردیتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کوناراض کرکے خوش کیاتھا۔اورجوشخص اللہ تعالیٰ کوخوش کرنے کے لیے لوگوں کوناراض کرتاہے تواللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوجاتے ہیں اوران لوگوں کوبھی خوش کردیتے ہیں جن کواللہ تعالیٰ کوخوش کرنے کے لیے ناراض کیاتھایہانتک کہ ان ناراض ہونے والے لوگوں کی نگاہ میں اس شخص جواچھافرمادیتے ہیں ،اوراس شخص کے قول اورعمل کوان لوگوں کی نگاہ میں مزین کردیتے ہیں(طبرانی ،مجمع الزوائد)
٭مسیح دجال اورشرک خفی٭
حضر ت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ(اپنے حجرہ مبارک سے)نکل کرہمارے پاس تشریف لائے ،اس وقت ہم لوگ آپس میں مسیح دجال کاتذکرہ کررہے تھے ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:کیامیں تم کووہ چیز نہ بتاﺅں جومیرے نزدیک تمہارے لیے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ہم نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!ضرورارشاد فرمائیں ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:وہ شرک خفی ہے (جس کی ایک مثال یہ ہے)کہ آدمی نمازپڑھنے کے لیے کھڑاہواورنمازکوسنوارکر اس لیے پڑھے کہ کوئی دوسرااس کونمازپڑھتے دیکھ رہاہے(ابن ماجہ)
٭ اعمال نامہ پھینک دو٭
حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن مہرشدہ اعمال نامے لائے جائیں گے اوروہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے نامئہ اعمال کے بارے میںفرمائیں گے ان کوقبول کرلواوربعض لوگوں کے نامئہ اعمال کے بارے میں فرمائیں گے ان کوپھینک دو!
فرشتے عرض کریں گے :آپ کی عزت وجلال کی قسم !ہم نے ان اعمال ناموں میں بھلائی کے علاوہ توکچھ اوردیکھانہیں؟اللہ تعالیٰ فرمائیں گے :وہ اعمال میرے لیے نہیں کیے تھے اورمیں آج کے دن ان ہی اعمال کوقبول کروں گاجوصرف میری رضاکے لیے کیے گئے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ فرشتے عرض کریں گے :آپ کی عزت کی قسم !ہم نے تووہی لکھاجواس نے عمل کیا(اوروہ سب اعمال نیک اوراچھے ہی ہیں)اللہ تعالیٰ فرمائیں گے:فرشتو!تم سچ کہتے ہو(لیکن)اس کے اعمال میری رضاکے علاوہ کسی اورغرض کے لیے تھے(طبرانی،مجمع الزوائد)
اخلاص کے ساتھ جوعمل کیاجاتاہے وہ دائمی ہوتاہے ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی نیتوں پہ بھی توجہ دیں ،جیسی نیت ہوگی ویسی ہی مراد ہوگی ،اگرریاکاری کے زمرے میں ہمارے اعمال آتے ہیں توہمیں مرنے سے پہلے ہی اپنامحاسبہ کرناہوگاورنہ کل قیامت کے دن رسوائی ہوگی ،
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صﷺ نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے دنیامیں شہرت کالباس پہنا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کوذلت کالباس پہناکراس میں آگ بھڑکادیں گے(ابن ماجہ)
اللہ پاک سے التجاءہے کہ یااللہ ہمیں ان آزمائشوں سے نجات عطافرمااورعمل صالح اخلاص نیت کے ساتھ کرنے کوتوفیق عطافرما(آمین یارب العالمین)



For more bolgs and information SUBSCRIBE MadiAnnex



About the author

MadihaAwan

My life motto is simple: Follow your dreams...

Subscribe 0
160