امن و امان کا مسئلہ یا سیاسی مقاصد کا حصول۔

Posted on at


امن و امان کا مسئلہ یا سیاسی مقاصد کا حصول۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل چوھدری نثار علی نے سوئی میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے لئے انہوں نے جوز پیش کیا کہ علاقے میں بھگٹی قبائل کے دو متحارب گروپوں کے درمیان مسلح تصادم کی وجہ سے گیس کی تعینات کو خطرہ ہے۔ بلوجستان میں سوئی کے علاقے میں فوج کو تعینات کرنے پر بعد میں بحث کریں گے کہ آیا اس کی پڑتی تھی یا نہیں۔

                                                             

 

بلوچستان پاکستان کا وسیع وعریض رقبے پر مشتمل صوبہ ہے۔ جو بے پناہ قدرتی وساہل سے بھرپقر ہے۔ پاکستان میں گیس کا نہ صرف سب سے بڑا ذخیرہ بلکہ گیس کی دریافت اس صوبے سے ہوئی ہے، جس سے پورا ملک استفادہ کر رہا ہے۔ 

بلوچستان کے ایک دو شہروں کو جنرل ضیاالحق کے دور میں ہی گیس ملی تھی وگرنہ اس سے قبل یہ صوبہ اپنی ہی گیس کی سہولت حاصل کرنے سے محروم رہا ہے۔ گیس کے علاوہ بلوجستان میں تیل کے  بھی بڑے ذخائر موجود ہیں پر جن کی راہ میں سیاسی مفادات آجاتے ہیں۔

سوئی گیس کا ذخیرہ ختم ہونے کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ ان باتوں سے ہی حکمرانوں کا دوغلا پن معلوم ہو جاتا ہے کیونکہ اگر گیس کم ہو رہی ہے تو پھر وہاں فوج کیوں لگانے کا آرڈر دیا گیا۔ اور اگر وہاں فوج لگانا ضروری ہے تو پھر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ گیس کے خزانے میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا تھا۔ اور یہ سارا چکر وسائل کی تقسیم کے بارے میں صوبوں کا منہ بند کرنے کیلئے چلایا گیا کیونکہ اس وقت تمام صوبے وفاقی حکومت سے وسائل میں اپنا حصہ طلب کر رہے تھے سرحد بجلی کی رائلٹی طلب کر رہا تھا پنجاب گندم جبکہ سندھ اور بلوچستان کی جانب گیس کی رائلٹی طلب کی جا رہی تھی۔

گیس کی رائلٹی میں سب سے زیادہ دھوکا بلوچستان سے کیا جا رہا تھا۔ وہ اس طرح کہ اگر کسی صوبے میں گیس کے ذخائر تلاش کرنے ہوتے ہیں تو اس کے لئے اخراجات بلوچستان کو برداشت کرنے پڑتے تھے جو کہ اس وقت ایک بڑے ذخیرے کا مالک تھا لیکن جب نئی جگہ پر گیس کی تلاش مکمل ہو جاتی اور گیس نکلنے لگتی تتھی تع اس سے ہونے والی آمدن اس صوبے کی مالکیت ہوتی  

 

 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160