افغان سسلین امریکی ملٹی میڈیا اداکارہ سے افغانستان میں فلم پروڈکشن اورموسیقی کے بارے میں بات چیت

Posted on at

This post is also available in:

آریانہ دلاوری  ایک موسیقار، فلم ساز، فوٹوگرافر، اداکار اور رایٹر ہیں 

دلاوری نے سینماٹک آرٹس  یو ایس سی سکول سے گریجویشن کی۔گریجوشن  کے چند ماہ بعد پہلی  بار کیلۓوہ جہاز پر افغانستان کیلۓ محو پرواز تھی۔اور اس نےاپنے  والد کی  

  11/9

پر ۱۰ سالہ ڈاکومینٹیشن پر کام شروع کیا۔

ایف اے: کیا آپ اپنے اور اپنے پس منظر کے بارے  میں ھمین  بتا سکتی ہیں؟

اے ڈی: میں ایک افغان سسلین امریکی اداکارہ ہوں۔میرے والد افغانستان سے ہیں۔میری والدہ نیمہ افغان اور نیمہ سسلین ہیں وہ نیو جرسی میں پیدا ہویٔ  تھیں۔ میں لاس اینجلس میں پیدا ھویٔ۔میں ایک موسیقار۔فلم میکر اور اداکارہ  ہوں۔

اگرچہ  میں لاس اینجلس میں پیدا ھوییٔ تا ھم افغانستان میری زندگی  کا  ایک اہم حصہ اور میرا دوسرا گھر ھے۔میں روسی حملے کے بعد پیدا ھوییٔ تب میرے والد کی تمام توجہ افغانستان میں امن  و امان پر مرکوزھو گیٔ تھی۔

گیارہ ستمبر کے بعد میرے والدین واپس کابل چلے گۓ تھے۔تب سے میں افغانستان اور اپنے والد  کے کام پر ڈاکومینٹیشن کر رہی ھوں۔

اے ایف :   آپ  ۔۔۔ہم گھر  آ گۓ؛؛؛؛؛کیلۓ کیسے متاثر ھوییٔں۔افغانستان کے لۓ سفر کی دستاویزی فلم؟

اے ڈی :ہم گھر آ گۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بہت قدرتی طور پرآیا۔۔میں نے کہا ہے کہ افغانستان ہمیشہ میری زندگی اور میری شناخت کا اتنا بڑا حصہ رہا ہے.

میں جتنی امریکی ہوں اتنی ہی افغان  ہوں۔11۔9 کے بعد جب میرے والدین افغانستان  واپس آ گۓ تو میں نے افغانستان کیلۓ سفر شروع کیا۔میرا پہلا سفر اکتوبر 2002 میں تھا۔جیسے ھی میں افغانستان کے لۓ اڑی تو مجھے افغانستان سے گہری محبت ھو گیٔ  تھی۔اترنے سے پہلے  ھی میں جان گیٔ تھی کہ یہی میری زندگی کا مقصد تھا۔میں جانتی  تھی کہ میں کیوں ایک اداکارہ اور کہانی سنانے والی تھی۔میں جانتی تھی کہ میں زمین کی کہانی میں نے سنانی ھے۔اس لیۓ میں نے اپنے سفر جاری رکھے اپنے سفر کو تصویروں ،فلم،اور موسیقی  میں درج کرتی رھی۔2007 میں میں نے ایک البم بناییٔ۔میں لاس اینجلس سے اپنے ساتھ کچھ موسیقاروں کو ساتھ لاییٔ اور افغانستان کے تین استادوں کے ساتھ تعاون کیا۔میری فلم میری البم کی دستاویزات ھیں جس میں میرے والد اور افغانستان کی کہانی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی نہیں کی گیٔ تھی۔میں اور میرا سفر اس دستویز کی کہانی تھے۔ میں نے اسے صرف آشکارا کرنے کی اجازت دی۔جب ھمیں معلوم ہو گیا کہ کہانی کس چیز سے متعلق ہے تو ھم نے مزید انٹرویو حاصل کرنے کیلۓ ایک اور سفر کیا۔ترمیم کے مراحل میں بھی کہانی چلتی رھی۔ میں فلم بناتی رھی۔کہانی اب بھی گردش میں تھی زندگی کی کہانی ھم سب کی زندگی کی کہانی۔۔جیسے کہ  یہ ہمیشہ ہوتی ہے۔ 

 

Photographer: Ariana Delawari

 

ایف  اے:  کیا آپ ہمیں البم ۔۔۔۔۔لاییٔن آف پنجشیر ۔۔۔۔۔۔۔کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟ تم نے اسکی دھن کیسے بناییٔ؟

 
اے ڈی : میں نے کیٔ سال پہلے اسکی دھن لکھنا شروع کی تھی۔ان میں سےایک گانا: دی  ایسٹ:پہلا ایسا گانا تھا جب  میں نے اپنی موسیقی میں افغان دھنیں اور گانے شامل کرنا شروع کر دیۓ تھے۔میں  افغانستان میں تھی جب میں نے ایک پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا۔اس تجربے  نے مجھے بہت متاثر کیا۔میں وہاں ان چھوٹی لڑکیوں سے ملی جن کو دیکھ کر مجھے اپنے کزن اور اپنا آپ یاد آ گیا۔اور وہ بچے مجھے اپنے دادا دادی سے ملانے لے گۓ۔ان کے دادا نے اپنی کہانی سناییٔ۔جب وہ یہ کہانی سنا رھے تھے تو دادی رو پڑی ۔جب دادی رونے لگی تو بچے بھی رونے لگے۔اس سے میرا دل ٹوٹ گیا۔اس لیۓ میں نے :دی ایسٹ ؛ لکھی جو کہ ایک بچے کے بارے میں ھے جو کہ طالب بن جاتا ھے۔

  جب وہ بڑا ہو جاتا ھے تو اپنی زندگی کے بارے میں سوچتا ھے کہ اس نے کیا کیا ھے۔یہ گانا بتاتا ھے  کہ کیسے طالبان کو پیدا کیا گیا۔کیسے نوجوان طالب اور خودکش بن جاتے ہیں۔باقی گانے بھی مختلف طریقوں سے بنے۔اور میں نے اپنے خیالات اور تجربات کے بارے  میں لکھا۔ چشم سیاہ داری احمد ظاہر کے گانے کا کور ھےلیکن میں نےگانے کا مفہوم بدل دیا تھا اور اس میں اپنے شعر اور دھنیں شامل کر دی تھیں۔میں نے اس گیت کا احطہ کرنے  کی کوشش کی لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس وقت کیٔ ملین افغان مہاجرین  لوگ تھے جب اس  نے یہ گانا لکھا تھا۔اسکا گانا محبت اور گھر کے بارے میں تھا۔۔لیکن افغانستان میں گھر بہت بدل چکا تھا۔اس لۓ میں نے اپنے پناہ گزین کیمپ کے سفر کے بارے میں لکھااور ان لوگوں کے بارے میں میں نے لکھا جنکی آنکھوں میں میں نے  دیکھا تھا۔میں نے اس بارے میں لکھا کہ ایک مشہور پاپ گانے میں افغانستان کیسے دکھایا گیا تھا۔جب ملک میں امن تھا۔اس لیۓ یہ گانا ایک یادگار کے طور پر ھے اور پناہ گزینوں کیلۓ ایک  محبت بھرا گانا ھے

گانا ۔۔۔طالب چلے جاییٔں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے افغانستان کے بارے میں ایک خواب کی وجہ سے کی لکھا۔

جب میں جہاز میں زمیں کے اوپر تھی تو میں نےیہ احساس کیا اور  دیکھا کہ زمین ہم سے پرانی ہے۔ بلکہ یہ کسی بھی حکومت سے پرانی ھے۔یہ انا سے بھی پرانی ھے۔انسانی فطرت کی انا ہی ہے جو کہ تباہ کن ھے۔ہم  واقعی میں یہاں پر زمین اور جانوروں کی حفاظت اور ایک دوسرے کی پرورش کے لۓ ھیں اس کے برعکس ھم نے ایک ایسی دنیا بنا لی ھے جسمیں ہم لوگ نسل ۔مذھب۔قومیت اور سرحدوں کے لۓ لڑ رھے ھیں ھم نے اپنے دل کے اندر کی دیواروں کو شیشہ بنا کر باھر کی دنیا میں سرحدیں بنا دیں ھیں۔وہ دیواریں جو ھمیں دوسروں سے پیار کرنے سے روکتی ھیں۔ اصل میں البم کےن آخری تین گانے۔۔۔۔۔،،،مجھے معطل کر دیں۔۔۔۔۔۔؛؛؛ھم ایک سنک پر رھتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛؛؛؛؛؛اور ھم گھر آگۓ۔۔۔؛؛؛؛؛بلکل  ایک دعا کی ترح ہیں جو یہ دیواریں گرا دیں گی۔محبت کیلۓ ایک دعا۔ ۔۔۔۔۔؛؛   

Be Gone Taliban Lyrics by Ariana Delawari

 

ایف اے  :کیا آپ نے اپنی البم میں افغان موسیقی کے  آلات استعمال کیۓ۔؟آپ نے کسطرح رواییتی موسیقی کی دھنیں جدید موسیقی کے آلات  کیساتھ یکجا کیں؟

اے دی: جی ھاں میری البم میں رباب ؛دلربا؛اور طبلہ شامل ہیں۔ میں نے ین آلات کو افغانستان میں استاد گلام حسین؛استاد امرالدین اور استاد محمد ولی کے ساتھ ریکارڈ کیا۔میں ان ریکارڈنگز کو واپس لاساینجلس واپس لے آییٔ۔جھاں پر میں نے اور میرے کیٔ موسیقار دوستوں نے اس میں دوسرے آلات اور آوازیں

شامل کیں۔

  

اے ایف:افغانستان میں اپنے دوروں کے درمیان آپنے ملٹی میڈیا صنعت میں کیا فرق محسوس کیۓ؟

ارے واہ!بڑا سوال ۔ ھاھا ھا بہت سے فرق ہیں۔ ابھی تک دن کے آخر تک جیسے کہ ہم سب انسان ہیں۔افغانستان روایات ۔قدیم ثقافت، اخلاقیات اور گہرے احساسات کی حامل سرزمین ھے۔ھمارے لوگ نا قابل یقین حد تک سخی اور مہمان نواز ھیں۔ہم اپنے کو سب کچھ دے دیتے  ہیں مگر اگر کوییٔ ھمارے ساتھ زیادتی یاھم سے ناجایٔز فایٔدہ اٹھاۓ تو ہم اسکے بد ترین دشمن بن جاتے ہیں۔(اور یہ بات تاریخ ثابت کرتی ھے)۔ہمارے  فخر اور قدیم حکمت میں بہت خوبصورتی ھے،لیکن ھمارے قبایٔلی علاقوں میں بخشش اور اتحاد کے بارے میں سیکھنے کیلۓ بہت کچھ ھے۔معاف کرنا ھماری ثقافت کیلۓ بہت فایٔدے مند ہے۔خواتین کیلۓ افغانستان میں حقوق نا ھونے ک برابر ہیں۔نوجوان بھی ہماری ثقافت میں زیادہ اھمیت نھیں رکھتے۔اس لیۓ کیٔ دوسرے طریقے ہیں جن سے ہم اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔

امریکہ مواقع کی سرزمین ھے۔امریکہ میں آپ لفظی طور پر کچھ بھی بن سکتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں آپ کو کوییٔ روکنے والا نہیں ھے۔ ہم ایک آزادی اور عیش و عشرت پسند کرنیوالی قوم ہیں مگر پھر بھی ہم میں رابطوں کی بہت کمی ھے۔ہماری ثقافت نوجوان نسل میں مادی وجود ،شہرت اور خوشقسمتی کی وجہ سے پاگل ھو رھی ھے۔ایک اچھے معاشرے کی بہت کمی ھے۔ میں اظھار راۓ آذادی کو پسند کرتی ہوں۔لیکن میں سمجھتی  ہوں کہ ہم  احترام ،وقار، اور روحانیت کے بارے  میں سیکھ سکتے ھیں۔ امریکہ میں ایک قسم کی روحانیت کی کمی ھے۔قدیم ثقافتوں سے سیکھنے کیلۓ بہت کچھ ھے۔  

میرے خیال میں  ہم لوگ بھی امریکیوں کی طرح ذہین ھیں مگر حکمت کی کمی ھے۔ ھمارے بزرگ جب بہت قبل قدر بن جاتے ھیں تو زندگی کےاس  موڑ پر ھم انکو ریٹایٔرمنٹ ہومز میں ڈال دیتے ہیں۔ہم ان ک حکمت کی  قدر کرنے میں اندھے ھیں ،تو یہ مجھے ایک بڑا  مسٔلہ نظر آتا ہے۔اور یہ ایک راستہ ھے جسمیں ھمیں بہتری  کی ضرورت ھے۔

امریکہ کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں تنوع ھے۔ہم تارکین وطن کی ایک قوم ہیں۔

ہم سحیح معنوں میں اپنے تنوع اور اتحاد کی وجہ سے بہت آگے آگۓ  ھیں۔لیکن ھمیں اب بھی بہت کچھ کرنے  کی ضرورت ھے۔لیکن یہ ایک بہت قابل ذکر بات ھیکہ ایک نیا ملک اتنا متحد ھے۔مجھے سچ میں یقین ہیکہ ہماری بہت ساری اقوام اور ثقافتوں کو ایک دوسرے  سے سیکھنے کیلۓ بہت کچھ ہے۔ کوییٔ بھی کامل نہیں ہے۔لیکن ھم متحد ہو کر اچھی ہم آہنگی سے بہتر تشکیلات کر سکتے ھیں۔

میں اپنے نسب اور تاریخ کے تمام حصوں سے محبت کرتی ھوں میں واقعی میں اپنی دنیا کی تمام اقوام سے محبت کرتی ہوں۔میں دنیا کی تمام اقوام اور تمام دنیا  کو دیکھنا چاھتی ہوں جب تک میں زندہ ہوں۔میں ہر روز یہ دیکھتی ہوں کہ ھم لوگ بڑھ رھے  ہیں اور ایک دوسرے سے منسلک ہو  رھے ہیں۔میں ان لوگوں سے ملتی ہوں جو مجھے روزانہ متاثر کرتے  ھیں۔

سچ میں جب میں مسایٔل  کو دیکھتی  ہوں یا وہ طریقے  جس سے ھم بڑھ سکتے ہیں۔تو میں خود بخود اس  کی نشونما  بھی دیکھتی  ہوں۔اور  مجھے  یہ بہت دلچسپ لگتا  ہے۔میں اس سبکا حصہ بننا چاھتی ہوں ۔جی ہاں اس سبکا۔ایک بہت بڑی ہاں!)۔۔۔۔۔۔۔

 

فرشتہ فروغ



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160