کیا کیوبا میں ڈیجیٹل خواندگی ایک نا ممکن خواب ہے؟

Posted on at

This post is also available in:

2008

میں فیدل کاسترو نے اپنی طاقت کیوبا کے صدر کے طور پر اپنے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو منتقل کی۔ لوگ حیران تھے کہ آیا کہ کیوبا اپنی سخت پالیسیوں میں لچک پیدا کرے گا جنہوں نے گذشتہ 50 سالو ں سے اس کی آبادی کو دنیا سے جدا کر رکھا ہے۔ کچھ تبدیلیاں مختلف ہیں ایک امید پیدا ہو رہی ہے کہ ایک لبرل آئین سازی نافذ ہونے جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ مضبوط نشانیاں جلد ہی بدل جائیں گی ایک عام سکیپٹیسزم اورزیادہ کیوبن ان کی ابتدائ خوش امیدی کو ایک تلخ مایوسی میں تبدیل کر چکے تھے

جب میں نے کیوبا کا سفر کیا تو مجھے ڈبل کرنسی سسٹم سے ڈیل کر نا پڑی جو کہ کیوبن انتظامیہ نے نافذ کر رکھی ہے۔ تمام سیا ح یہ امید کر رہے تھے کہ تبدیل ہو سکنے والے پیسوزسی یو سی میں ادائیگی کرنی پڑ ے گی جبکہ زیادہ تر مقامی باشندے کیوبن سی یو پی استعمال کرتے ہیں ۔ جبکہ ہر ایک تبدیل ہونے والا پیسو 20-25 کیوبن پیسو کے برابر ہے۔ یہ واضح ہے کہ پہلی کرنسی اس لیئے رکھی گئی تھی کہ جتنا ہو سکے عالمی مسافروں سے زبردستی حاصل کی جاسکے۔ دو ہفتے پہلے کیوبن حکومت نے اعلان کیا کہ یہ دو مختلف کرنسیوں کو ایک میں شامل کرے گی ۔ اس معاشی شیراڈ کے خاتمے کے لیئے۔ بہت سے کیوبن نے اس 2 کرنسی سسٹم کو واپس کیا، کیونکہ وہ صرف زیادہ مہنگی کرنسی میں دستیاب ہے اور وہ اس کو استعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان کیوبن باشندوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے جو کہ سیاحوں کی منزل کے قریب رہتے ہیں اور سیاحوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کام  کرتے ہیں۔ جب کہ آبادی کا بقیہ حصہ جو کہ مقامی معیشت پر انحصار کرتا ہے انہیں اپنا حصہ نہیں ملتا۔ کاسترو کے حالیہ کام کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آخرکار وہ تمام شہریوں کو ایک جیسے لیول پر لا رہا ہے ۔ لیکن ابھی یہ واضح کرناہے کہ ابھی 2 جدا پیسوز کو اکھٹا کرنے میں کتنا وقت لگے گا

جب سے 1959 میں کاسترو نے طاقت حاصل کی ، کیوبن کھلاڑی جو کہ غیر ممالک میں کھیلنا چاہتے تھے انہیں ان کا ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔اور خفیہ طور پر انہوں نے جزیرے سے جان چھڑائی۔ گذشتہ ستمبر میں کیوبن حکومت نے اعلان کیا کہ یہ کیونکہ کھلاڑیوں کو اور عورتوں کو دوسرے ممالک میں کھیلنے کی اجازت دے گی اور جہاں تک ممکن ہوگا ان کی کمائیوںں پر ٹیکس لگایا جائے گا۔ یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ کس حد تک یہ قانون سازی ان کے اپنے ملک کو چھوڑنے میں ان کی فزیکلی مدد کرے گی۔ مثال کے طور پر امریکہ یقیناََ کسی کنٹریکٹ کو آفر نہیں کرے گا کیونکہ معاشی پابندیاں جو کہ انہوں نے 50 کی دہائی سے لگا رکھی ہیں کیوبن پر اگرچہ یہ بندش بہت لمبی ہو چکی ہے اور یہ ابھی تک موجود ہے کیونکہ امریکہ سمجھے گاکہ جو رقم کیوبن حکومت ٹیکس کی مد میں وصول کرتی ہے ان کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ اسی وجہ سے کیوبن کھلاڑی دوسرے ممالک میں کھیل سکیں گے امریکہ کے علاوہ

جب میں نے کیوبا میں قیام کیا تو میں کیوبن گھرانوں کے ذاتی گھروں میں رہا جو کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے کمرے کرائے پر دیتے تھے۔ یہ کاساس پارٹیکو لارز  حکومت کے ہوٹل سے بہت بہتر مالی طور پر قابل برداشت تھے اور کیوبن باشندوں کے ساتھ معیاری  وقت گذارنےکے سنہری موقع کو پیش کرتے تھے۔لا محدود خاندانوں کے لیئے ان کی جائیداد کو کرایہ پر دے کر رقم کمانے کا موقع۔ ایک اچھی رہائش اور بمشکل سرونگ کے درمیان فرق کر سکتا ہے اور زیادہ کیوبن خوش ہیں کہ انتظامیہ نے انہیں اس کارو بار کی اجازت دے رکھی ہے ( بھاری ٹیکسوں کے بعد) کاساس پارٹیکولارز کے ساتھ ، مقامی کرائے جس قدر بھی وہ ایک رہائش بنانے کے لیئے کر سکتے ہیں ، اور زیادہ ذاتی کاروبار جیساکہ ٹیکسیاں ، سیاحوں کی رہنمائی، دکانیں تمام ملک میں ملتی ہیں۔ بد قسمتی سے ، کیوبن حکومت اس بات کا حق رکھتی ہے کہ وہ کسی بھی وقت ذاتی کاروبار کو ختم کر سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر پچھلے ہفتے کیوبن انتظامیہ نے تمام ذاتی سینماؤ ں اور وڈیو گیم جگہوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ حالیہ قانون سازی جلد ہی تمام قسم کےذاتی کاروبار کا خاتمہ کر دے گی۔ نتائج سے بےپروائی کی جا رہی ہے کہ یہ قانون سازی  اس قسم کے کاروبار کےمالکوں پر ہوگی۔


یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کیوبن صحافت کی آزادی سے انکار کررہے ہیں، کتابیں، اخبارات، ریڈیو چینلز، ٹیلیوژن چینلز موویز اور موسیقی بڑے پیمانے پر سینسرڈ ہیں۔ خود مختار صحافیوں کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی اور کی جا رہی ہے۔ مذید یہ کہ لوگوں کی بہت تھوڑی تعداد کو انٹرنیٹ سرفنگ کی اجازت ہے۔  جیسا کہ آپ کو کیوبا میں ایک خاص اجازت نامے کی ضرورت ہے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیئے، وہ جو کہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کرتے ہیں جو کہ تمام کیوبن کرتے ہیں جب ان کے پاس کچھ چیز ہو جسے دوسرے چاہتے ہیں، وہ اسے بیچتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ گھروں میں قیام کرنا جن میں انٹرنیٹ ہو صرف اس وجہ سے کہ وہ اسے خریدیں گے، ایک بہت زیادہ قیمت پر ۔ بلیک مارکیٹ پر یونیورسٹی کے طالبعلموں اور پروفیسرز کی طرف سے یا پھر سرکاری حکام کی طرف سے جو کہ اپنا یوزر نام اور پاس ورڈ کرایہ پر دینا چاہتے ہیں۔ اور جیساکہ بہت سے کیوبن انٹر نیٹ استعمال نہیں کر سکتے ، حتی ٰ کہ وہ سوشل میڈیا تک استعمال نہیں کر سکتے ۔

اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ تمام قارئین کو کیوبا کی صورتحال کے متعلق مطلع کرنا اور ان حقوق کو واضح کرنا جن سے کیوبن انکار کر رہے ہیں ۔  ورٹکس کی طرف مڑنے کے باوجود کیوبن حکومت نے اپنی پالیسیوں کو زیادہ تبدیل نہیں کیا ، اور آزادی ایک ہما بن گئی ہے۔ اگر کیوبنزکو  سوشل میڈیا نیٹ ورکس سٹریٹیجیز لاگو کرنے کی اجازت ہوتی تو ہوسکتا ہے  کہ دنیا بھر سے زیادہ لوگ ان کی مدد کرنے کے لیئے کیوبا کی طرف مڑتے۔ اگر کیوبن سوشل میڈیا بلاگز لکھ سکتے تو ہو سکتا ہےکہ کیوبن انتظامیہ زیادہ لبرل اور مناسب آئین نافذ کرتی۔ اگر کیوبن اس قابل ہوتے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات اور خوابوں کا اشتراک کر سکیں تو ہو سکتا ہے کہ ان کی سوشل میڈیا مہم کچھ تعمیری ہوتی اور موجودہ رہنما مجبوری محسوس کرتے اور دباؤ باقی دنیا کے ساتھ اپنے سیاسی نظام کو لانے کے لیئے۔ میں صرف امید کر سکتا ہوں کہ یہ لمحہ قریب ہے۔

اگر آپ سےکیوبا کے متعلق میرا کوئی پچھلا مضمون رہ گیا ہے تو مندرجہ ذیل کو ریفر کریں، اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تبصرہ کریں اور اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر اشتراک کریں۔

کیوبا اور افغان تعلیمی نظام کا تقابلہ

گیا کومو کرسٹی

سینیئر ایڈیٹر انیکس پریس

فلم انیکس

اگر آپ سے میرا کوئی بلاگ رہ گیا ہو تو میرے زاتی صفحے  یہاں آئیں

http://www.filmannex.com/webtv/giacomo

  مہربانی کر کے میری پیروی کریں@giacomocresti76



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160