اسامہ بن لادن اور امریکہ۔۔۔﴿حصہ 4﴾۔

Posted on at



طالبان تحریک کی قیادت  اپنے دفاع میں یہ کہتی رہی کہ جب طالبان افواج نے ستمبر ١۹۹٦ء میں جلال آباد شہر پر قبضہ کیا تو اس وقت اسامہ بن لادن پہلے سے وہاں موجود تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن نے افغان جہاد میں بنفیس نفیس شرکت کرنے کے علاوہ مجاہدین کہ ً دامے درمے سخنے ً ہر طرح سے مدد کی۔ اس لیے انہیں افغانستان میں ایک مہمان کی حیثیت سے پناہ دی گہی تھی۔اس کے علاوہ طالبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کو ان کی سیاسی و عسکری سرگرمیوں کیلیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ ان سب کے علاوہ طالبان کی ایک اور دلیل یہ بھی تھی کہ افغانستان کا امریکہ یا کسی اور ملک کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے اس لیے وہ ان ممالک کو مطلوب کسی شخص کو ان کے سپرد کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

 


 سعودی عرب کے ایک اعلان سے بھی کہ اسامہ بن لادن کا ١۹۹۵ء اور ١۹۹٦ء میں سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے خلاف بموں کے دھماکوں میں کوہی ہاتھ نہیں۔ سعودی عرب کے ً وزیرداخلہ شہزادہ ناہف بن عبد العزیز ً نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ً اسامہ بن لادن کا سعودی عرب سے کوہی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی سعودیہ عرب ان کی سرگرمیوں کی زمہ دار ہے ً۔ ان بم دھماکوں سے اسامہ بن لادن کو بری الزمہ قرار دینے کا مطلب یہ تھا کہ سعودی عرب نے واضع طور پر امریکہ سے برعکس موقف اپنایا تھا۔

  


 اسا مہ بن لادن کے خلاف امریکہ کی ۲۳۸ صفحات پر مشتمل طویل فروجرم تھکا دینے والی کتاب ہے۔ اگر اس میں بیان کیا گیا سب کچھ سچ ہے اور اسے کسی عدالت میں ثابت کیا جاسکتا ہے تو یقینٲ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اسامہ بن لادن کا نیٹ ورک کس قدر منظم اور پھیلا ہوا ہے۔
 اسامہ بن لادن اور محمد عاطف کو نیو یارک میں ہٹن فیڈرل کورٹ میں نہ صرف مشرقی افریقہ میں دو امریکی سفارتخانوں میں ہونے والے بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار ٹھرایا گیا بلکہ دنیا میں کہی دیگر مقامات پر بھی امریکیوں کو قتل کرنے کی سازشیں تیار کرنے میں بھی ملوث قرار دیا گیا تھا۔

      
 
 اگر آپ اس بلاگ کا 1 ، 2 ، 3 ، حصہ پڑھنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں  اور اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو اوپر نمبرز پر کلک کریں۔
 اگر مزید میرے بلاگز پڑھنا اور شہیر کرنا چاہتے ہیں تو ادھر کلک کریں۔
 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 0
160