"ہمارا قومی ترانہ "

Posted on at


جب ١٤  اگست ١٩٤٧ کو پاکستان وجود میں آیا تواس وقت پاکستان بہت سی مشکلات میں تھا لکن اس وقت ١ مشکل قومی ترانے کی بھی تھی جو کے قومی ترانہ تھا  اس وقت پاکستان کا کوئی اپنا قومی ترانہ نہیں تھا- ١٩٤٩ میں قومی ترانہ مرتب کرنے کے لئے ١ نورکنی "قومی ترانہ  کمیٹی" تشکیل کی گئی- اس کمیٹی نے ملک بھر کے شاعروں اور موسیقاروں کو قومی ترانہ مرتب کرنے اور اس پر دھنھیں ترتیب دینے کی دعوت دی-سینکڑوں لوگ آیئے اور سینکڑوں ترانے کمیٹی کو موصول ھوے،لیکن اس وقت  کوئی بھی معیار پر پورا نہ اترا


جب ١٩٥٠ میں شاہ ایران پاکستان انے والے تھے تو اس وقت ان کا استقبال بہت اچھا کرنے کا کہا گیا اور  کمیٹی پر زور دیا گیا کے وہ اس کام کو جلد مکمل کرے تا کے شاہ ایران کا استقبال ترانہ بجا کر کیا جائے، لہذا اسی سال مارچ میں بہت سارے ترانے اور دھنیں موصول ہوئیں، جن میں "احمد جی چھا گلہ " کی دھن سے شاہ ایران کا استقبال بھی کیا گیا-


١٩٥١ میں شاعروں کو اسی دھن پر ترانہ لکھنے کی دعوت کی گئی- ١٩٥٤ تک حکومت کو ٦٦ ترانے موصول ھوے- جن میں سے بہت سے لوگوں  کے ترانے بہت ہی اچھے تھے لیکن سب سے زیادہ ترانہ "حفیظ جالاندہیری" کا اچھا تھا اس وجہ سے ان کے ترانے کو قومی ترانہ مقرر کیا گیا- اور پھر ١٤ اگست ١٩٥٤ کو حفیظ جالندھری کےلکھے  ھوے قومی  ترانے کی منظوری کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا- 

 



About the author

hamnakhan

Hamna khan from abbottabad

Subscribe 0
160