مغرب کی بڑھتی ہوئی ترقی

Posted on at


دیکھا جاۓ تو ہم مشرقی لوگ ہمیشہ مغرب کے منفی پہلوؤں پر ہی توجہ دیتے ہیں.لیکن یہ ایک کھلی ڈلی جقیقت ہے کہ مغربی اقوام تعمیر و ترقی میں ہم سے کوسوں آگے ہیں .اور ترقی کی دوڑ میں مغرب آج جس مقام پر پہنچ چکا ہے اس کی وجہ انکی بے پناہ محنت ، اچھی اور قابل عمل حکمت عملی ، مسلسل کوشش اور دور اندیشی ہے . اور نہ صرف ترقی اور ٹیکنالوجی میں بلکہ اگر کردار اور اخلاقیات کی بات کی جاۓ تو بھی مغربی اقوام ہم سے آگے ہی کھڑی نظر آتی ہیں .مغربی قوموں کے متعلق جو نظریات صدیوں سے چلے آرہے ہیں وو اب فرسودہ ہو چکے ہیں .یہ نظریات ہمارے بزرگوں کے ان تجربات کی بنا پر قائم کئے گئے تھے جو غلامی کے دور میں ان کو حاصل ہوۓ .مگر پچھلے ٥٠ سالوں میں مغرب نے اپنے طور طریقے کلّی طور پر تبدیل کر لئے ہیں .اگرچہ مغربی اقوام ابھی بھی طاقت کا مرکز ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے علمی اور ادبی شعبہ جات میں بھی حیران کن ترقی کی ہے .مگر مغرب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے سے پیشتر یہ ضروری ہے کے یہ جان لیا جاۓ کہ مغربی ممالک سے مراد کیا ہے ؟ مغربی ملکوں سے مراد عام طور پر وہ ممالک لئے جاتے ہیں جہاں کے مقامی لوگ سفید فام باشندے ہوتے ہیں . سفید فام اقوام نے پچھلے تین سو سالوں میں علم اور عمل میں دوسری قوموں پر حیرت انگیز برتری حاصل کر لی ہے . ان لوگوں نے نئے بر اعظم دریافت کر لئے اور پھر وہاں کے مقامی آباد کاروں کو ہر جائز اور نہ جائز طریقہ استعمال کر کہ پیچھے دھکیلا اور وہاں اپنا قبضہ جما لیا 



ان اقوام کا سب سے بڑا ہدف ترک عثمانی سلطنت تھی جن کی حکومت پورے عرب پر قائم تھی . ترک ہمیشہ یورپ پر حملہ کرنے کے منصوبے بناتے تھے . اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کے سفید فام اقوام نے اپنی ذہانت اور سازشوں کو بروۓ کار لاتے ہوۓ سلطنت عثمانیہ کا تختہ الٹ دیا .حضرت علی نے فرمایا تھا کہ اگر معاشرے میں کفر ہو تو وہ قائم رہ سکتا ہے مگر اگر معاشرے سے عدل و انصاف ختم ہو جاۓ تو وہ کبھی باقی نہیں رہتا . اگر اس قول کی روشنی میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے اسباب کا جائزہ لیا جاۓ تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ ترکوں میں سفید فاموں کی نسبت بے ایمانی زیادہ تھی .ترکوں کے مقابلے میں مغربی ممالک نے لوٹی ہوئی دولت اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کی .اس دور کو مغربی ملکوں کا سنہرا دور کہا جاۓ تو بے جا نہ ہوگا کیوں کے اسی دور میں مغرب نے سائنس ،آرٹ ،موسیقی اور ہر شعبے میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کی . جنگ عظیم اول اور دوم کے دور میں مغربوں نے انسانی حقوق کی  حصول یابی کے لئے اقدامات شروع کر دئے تھے . ستی جیسی گندی رسم جو کہ ہندؤں میں عام تھی اس کا انگریزوں نے ہی بر سر اقتدار آنے کے بعد خاتمہ کیا تھا . یہ ایک حقیقت ہے کے انگریزوں نے مقامی آبادی کو بہت نقصان پہنچایا مگر اس کے ساتھ ساتھ فائدہ بھی بہت دیا 



 


مغربی اقوام کی ترقی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتا چلے گا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی کشادگی بھی ان کی ترقی کی ایک اہم وجہ ہے . جہاں تک ممکن ہو سکے وہ لوگ قانون توڑنے سے گریز کرتے ہیں . ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں قانون کو ایک انتہائی اہم مقام حاصل ہے اور عام آدمی قانون شکنی کا تصور بھی نہیں کرتا . کہا جاتا ہے کہ کسی قوم کا مہذب ہونے کا پیمانہ چیک کرنا ہو تو اسکی ٹریفک چیک کرو . ان ممالک میں ہر گاڑی چلانے والا جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور ہارن بجانا تو وہاں گناہ سے کم نہیں . اس کے مقابلے میں اگر پاکستان یا دوسرے ایشیائی ملکوں کی ٹریفک کو دیکھیں یہاں حال بد سے بدتر ہے . لوگ ہارن پر ہاتھ رکھ کر یہ بھول جاتے ہیں کہ اٹھانا بھی ہے .اور یہ عمل ھسپتالوں اور سکولوں کے سامنے بھی جاری و ساری رہتا ہے . اور پاکستانی سڑکوں پر تو راستہ مانگنے کے چکر میں یہ جملہ عام سنائی دیتا ہے اوئے تیرے پیو دی سڑک ہے ؟ .اس کے مقابلے میں مغربی اقوام کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ زیادہ ٹریفک زیادہ آلودگی کا بھی سبب بنتی ہے . اس لئے وہاں ایک عام شہری بھی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے کہ آلودگی میں اضافے کا سبب نہ بنے . کاروں کے استعمال سے جہاں تک ہو سکے اجتناب کیا جاتا ہے اور کار استعمال کرنی بھی ہو تو انکی کوشش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے شخص کو شریک سفر کر لیا جاۓ . اور یہی ذہنی کشادگی انکی ترقی کا ایک اہم سبب ہے 



 


 


******************************************************************


مزید دلچسپ اور معلوماتی بلاگز پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں 


بلاگ رائیٹر 


حماد چودھری



About the author

hammad687412

my name is Hammad...lives in Sahiwal,Punjab,Pakistan....i love to read and write that's why i joined Bitlanders...

Subscribe 0
160