ڈٰیجیٹل خواندگی افغانستان میں تعلیمی نظام کو پہنچتی ہے-

Posted on at

This post is also available in:


میں ایک معلم ہوں، اور میں اپنے طالبعلموں کے ہر طرح کے رویئے سے روزانہ دوچار ہوتا ہوں۔ حتیٰ کہ یہ میرے کام کا حصہ ہے کہ وہ اپنی سماجی صلاحیتوں کو بنانے کے طریقہ کار میں ہیں، اور اپنی زندگیوں کے شروع میں اپنی کمیونٹی کے ارکان کی حیثیت سے۔اگرچہ ان کے ساتھ ڈیل کے لیئے صبر کی ایک اچھی شرع ضروری ہے، زیادہ تر میں چیلنجز کو خوش آمدید کہتا ہوں، اور حقیقی طور پر پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں جب میں ان کی زندگیوں پر ایک اچھا تاثر رکھ سکتا ہوں۔


36 بچوں کی جماعت کے ساتھ وقت گذارنا تفریح نہیں لیکن میں بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوں لطف اندوز ہوتا ہوں، اور میں اسے دنیا کی کسی بھی چیز کے ساتھ تبدیل نہیں کرونگا۔



حتیٰ کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے طالبعلموں کے لیئے ایک اچھا رول ماڈل بنوں، لیکن کوئی بھی مکمل نہیں۔ تمام لوگوں میں خامیاں ہوتی ہیں جنہیں وہ نہیں چاہتے کہ کوئی چھیڑے اور میری خامی غرور ہے۔ اور میں نہیں برداشت کر سکتا ہے جو طلباٗ روزانہ کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو استحقاق حاصل ہے، اور ہر چیز ان کی وجہ سے ہے، اوراس کے لیئے بغیر کام کیئے وہ ایک نتیجے تک پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اور افسوس محسوس کرنے میں میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا، کیونکہ ایک دن وہ جان جائیں گے کہ جب تک وہ کوشش نہیں کریں گے تو زندگی انہیں کچھ نہیں دے گی، اور جلد ہی وہ دن آئے گا، اور ان کے پاس اپنے رویئے کو تبدیل کرنے کے لیئے بہت وقت ہوگا۔



آجکل بہت سے بچوں کے پاس دینے کے لیئے بہت کچھ ہے، اور بہت کم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کتنے خوش نصیب ہیں جب ان کا تقابلہ ان سے کیا جائے جن کے پاس بہت زیادہ نہیں۔ وہ اپنے والدین کی شکایت کرتے ہیں کہ وہ انہیں جدید سمارٹ فون خرید کر نہیں دیتے، جبکہ دنیا میں لاتعدادبچوں کے پاس بجلی یا بہتا ہوا پانی تک نہیں۔ جو کچھ ان کے والدین ان کے ڈنر کے لیئے تیار کرتے ہیں وہ اس سے تنگ ہوتے ہیں، جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بچے بھوک میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے اساتذہ کی عزت نہیں کرتے اور بمشکل ہی سکول میں کوئی کوشش کرتے ہیں، جبکہ ان ہی جیسے لاتعداد بچوں کے پاس پڑھنے کی کنجائش نہیں۔ ہمیں کسی رویئے کی مذمت کرنے کے لیئے بہت دور تک جانے کی ضرورت نہیں جو کہ کسی اچھی قسمت کے لیئے ناقابل تعریف ہو۔ اور دوسرے لوگوں کی کوششوں سے مکمل طور پر لا پرواہ اور غافل۔  یہ معذور بچوں کے متعلق سوچنے کے لیئے کافی ہے، اور ان کا عزم ہونا چاہیئے ان کی زندگی میں مشکلات میں قابو پانے کے لیئے۔ خوش قسمتی سے ان کم خوش قسمت بچوں میں سے بہت سے کامیاب نوجوانوں میں روشن ہیں، جن کی طاقتور کہانیاں اس قابل ہیں کہ لاتعداد لوگوں کو متاثر کر سکیں، سمیت ان کے جو کہ غرور اور تکبر میں اندھے ہو چکے ہیں۔ میری گانن ان میں سے ایک کہانی ہے۔



میکسیکو کے ایک یتیم خانے میں پیدا ہوئی اور اسے ایک امریکی گھرانے نے گود لیا، میری نے اسے آسان نہیں لیا۔ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے پاس بجلی اور کھانے کے لیئے کافی خوراک نہیں تھی۔ میری بغیر بازوئوں کے پیدا ہوئی۔ میں اسکا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس نے اس نقصان کے ساتھ کس طرح زندگی گذاری، اور میں اس کا تصور نہیں کر سکتا کہ اگرمیں اس کی جگہ ہوتا تو میں کیا کرتا۔  بہرحال، میری نے کامیاب ہونے کے لیئے رستے کا انتخاب کیا، اور اب وہ لیک ووڈ اوہائیو میں مڈل سکول کی ایک کامیات ریاضی کی استانی ہے۔ ہر روز وہ اپنے کمرہ جماعت میں جاتی ہے، اس کے طالبعلم اس سے متاثر ہیں، اور نہ صرف اس کی لچک کی وجہ سے، زیادہ تر اس وجہ سے ہیں کہ وہ ایک عظیم استانی ہے۔ اس کی معذوری کے باوجود، میری نے ایک نارمل زندگی گذارنے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے(حتیٰ کہ وہ گاڑی بھی چلا سکتی ہے)، اور اپنی اس خامی کی وجہ سے کسی قسم کا خاص علاج نہیں چاہتی۔ اور وہ سمجھتی ہے کہ زندگی نے اسے کسی خاص وجہ سے اس مقام پر رکھا ہے، جبکہ وہ کام و برقرار رکھنے کا ایک متبادل راستہ تلاش کر چکی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کی معذوری نے اس کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ بہتر طور پر اس بات کی تعریف کر سکے کہ زندگی کیا ہے۔ آج کل کے بچے ایک خاتون جیسا کہ میری سے بہت کچھ سیکھ سکھتے ہیں۔ 



 ہر بچہ تعلیم دنیا میں دینے کے لیئے حاصل نہیں کرتا- افغانستان میں سکول میں حاضر ہونا ایک حق ہے جو کہ ہر افغان لڑکی اور لڑکے کو حاصل نہیں، اور طلبا کا اساتذہ کی طرف اور کتابوں اور کام کی طرف رویہ بہت زیادہ مختلف ہے۔ جب کہ افغانستان کی شرح خواندگی اب بھی دنیا میں کم ہے، مرد اور عورتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ کتنے خوش قسمت ہیں اگر وہ سکول جانے کا موقع حاصل کر سکیں۔ مذید یہ کہ ملک کے کچھ حصوں میں افغان خواتین کے لیئے طالبان انتہا پسندوں کی شدت پسندی خطرہ ہے، جو کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں اور بے رحمی سے انہیں اذیت دیتے ہیں جو  ان کی بات نہ مانیں۔ افغانستان میں سکولنگ بعض افغان گھرانوں کے لیئے ایک خطرناک فیصلہ ہو سکتا ہے، اور یہ اس بات کا حصہ ہے کہ کیوں افغانستان میں تعلیم ابھی تک پسماندہ ہے۔



خوش قسمتی سے کچھ عالمی کمپنیاں افغان نظام تعلیم کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں طلبا کو امداد اور ہدایات دیتے ہوئے۔ مثال کے طور پر فلم انیکس- ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم جو کہ اپنی ویب سائٹ کوخود مختار فلم سازوں کے لیئے ایک پنڈال کے طور پر پیش کرتی ہےکہ وہ دنیا بھر میں اپنے کام کو دکھائیں۔ ہرات کے ۱۰ سکولوں میں انٹرنیٹ کلاش رومز کھول رہی ہے، تیسرا بڑا شہر افغانستان میں۔ فلم انیکس کمپیوٹرز، انٹرنیٹ کنکشن اور تعلیم 40000 سے زیادہ طلبائکو مہیا کر چکی ہے، اور اسی علاقے کے 30 سے زیادہ سکولوں میں افغان ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کو پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مذید یہ کہ،  فلم انیکس گلوبل میڈیکل ریلیف فنڈ کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے جو کہ ان بچوں کی مدد کرتی ہے جن کے اعضا قدرتی آفات یاجنگی علاقوں میں ضائع ہو چکے ہیں۔ فلم انیکس افغانستان کے سکولوں کو بہتر بنانے کےکررہی ہے متاثر کن ہے


 


کیونکہ اقتصادی اور تعلیمی نشونما کی ھینڈ ان ھینڈ ترقی ہوتی ہے، اور وہاں کامیابی کے لیئے اسکی نئی نسل کو حقیقی موقع دینے کے بغیر افغانستان میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں ہو گی۔اور کچھ افغان طلبا پہلے سے ہی جو کچھ وہ فلم انیکس کی کمپیوٹر کلاسز میں سیکھ چکے ہیں اسے عملی طور پر کر رہے ہیں اور آن لائن پیسے کما رہے ہیں  سوشل میڈیا بلاگ لکھ کر اور سوشل میڈیا پر مواد کا اشتراک کر کے۔ سوشل میڈیا نیٹ ورک کی حکمت عملیاں جو کہ وہ فلم انیکس کی تعلیم کی مدد سے حاصل کر چکے ہیں اس بات کی اجازت دیتے ہیں  وہ بلاگ لکھنے کے لیئے پیسے کمائیں، اور انہیں ایک موقع مہیا  کرتی ہے کہ وہ نہ صرف پیشہ ور لوگوں سے مربوط ہوں بلکہ وہ اپنےآن لائن کاروبار تخلیق کریں اور ہمیشہ استعمال ہونے والی حکمت عملی تیار کریں جسے وہ فلم انیکس  کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ فلم انیکس افغانستان کی معیشت کی مدد کرنے کے لیئے اپنا کام کر رہی ہے۔ اگلا کون ہے؟


 


گیا کومو کرسٹی


سینیئر ایڈیٹر انیکس پریس


فلم انیکس





اگر آپ سے میرا  کوئی بلاگ رہ گیا ہو تو میر پیج  پر جائیں: http://www.filmannex.com/webtv/giacomo


مہربانی کر کے مجھے سبسکرئیب کریں اور میری ہیروی کریں @giacomocresti76 






About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160