ڈیجیٹل خواندگی کی جنگ مرد و زن کی مساوات کے لیئے

Posted on at

This post is also available in:

میں کبھی آئس لینڈ نہیں گیا لیکن مجھے یقین ہے کہ مجھے اس حیرت زدہ کردینے والے ملک میں کچھ وقت گذارنا اچھا لگے گا جس میں بھاپ چھوڑتے گیزر اور چنگھاڑتے آتش فشاں امن کے ساتھ باہم موجود ہیں جمے ہوئے گلیشیئرز اور برف سے ڈھکے پہاڑوں کےساتھ۔ اور مذید دل لبھانی والی بات یہ کہ ان سب مناظر کا تغیر ساحل سے کچھ ہی فاصلے سے کیا جاسکتا ہے۔ کیا شاندار جگہ ہے! اگر قدرتی کشش کافی نہ بھی ہوتی تو اور بھی دوسری لا محدود وجوہات ہیں جو کہ آئس لینڈ کو سیر کرنے کے لیئے ایک متاثر کن جگہ بناتی ہیں، جن میں سے ایک کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ کیوں اس کا مرد وزن کی مساوات کے لیئے دنیا میں اول مقام ہے۔ یہ صحیح ہے۔ آئس لینڈ میں مرد و زن کے درمیان امتیاز کا لیول بہت کم ہے جیسا کہ بہت سی آئس لینڈ کی خواتین صبح کو اٹھ سکتی ہیں اور حقیقی طور پر اس بات کو محسوس کر سکتی ہیں کہ وہ ایک ایسی دنیا میں رہتی ہیں جہاں انہیں مرد و زن کے درمیان امیتاز کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔



مرد و زن دونوں کے لیئے مساوات کا مطلب ہے بہت سی چیزیں اور بہت سی صورتیں انسانیت کی زندگی میں۔ اس کا مطلب ہے کہ سکول جانے کے لیئے ایک جیسا موقع پانا۔اس کا مطلب ہے نوکری اور پیشہ ورانہ آغاز کے لیئے ایک جیسی رسائی کے عمل سے گذرنا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک جیسے وظیفے اور معاشی مساوات حاصل کرنا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک جیسا حق دفتر جانے کے لیئے اور ایک سیاسی پارٹی کی نمائندگی کے لیئے۔اوراس کا مطلب ہے کہ صحت کی حفاظت اور پیرنٹنگ کے لیئے ایک جیسی سہولت حاصل کرنا۔ اور اس وجہ سے آئس لینڈ دنیا میں سب سے اوپر کھڑا ہے۔



دنیا میں ہر ملک کو آئس لینڈ کے ماڈل کی پیروی کرنی چاہیئے، جو کہ امریکہ سے شروع ہوتا ہے۔۔۔۔ حیران کن طور پر جس کا دنیا میں مرد وزن کی مساوات کی فہرست میں 23 واں مقام ہے۔ اور فہرست کے آخر میں یمن، پاکستان، چاڈ، شام،  موریطانیہ، آئیوری کوسٹ، ایران، مراکش، مالی، افغانستان اور سعودی عرب ہیں۔ یہ ممالک مستقل طور پر ںاکام ہیں عورتوں کو وہ دینے میں جو کہ مردوں کے لیئے دستیاب ہے، اور منظم طریقے سے اپنے شہریوں کے ساتھ ان کی جنس کی وجہ سے ان کے ساتھ امتیاز کرتے ہیں۔ اپنی مایوسی کے اظہار کے علاوہ میں ان قوموں میں عورتوں کی خودمختاری کے لیئے کچھ نہیں کر سکتا۔ باوجود اسکے کہ میرے پاس ایک کمپیوٹر ہے میں یقیناَ اس کو اپنے ایک منتخب ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہوں صدیوں پر محیط نا انصافی اور تعصب کے خلاف۔

سماجی میڈیا پر اپنے خدشات اور پریشانی کو شیئر کرنے سے میں دنیا میں ان ممالک میں خواتین کی خود مختاری کے متعلق آگاہی کو بڑ ھا سکتاہوں، اور سماجی میڈیا مہم کو فروغ دے سکتا ہوں جس کا مقصد ہے کہ ان کی خواتین شہریوں کو آزادی دلانا۔ بہت سی خواتین  کو افغانستان میں، مثال کے طور پر، حتیٰ کہ اتنی بھی اجازت نہیں کہ وہ کسی مرد کی سربراہی کے بغیر گھر سے نکلیں، ایک نوکری کی لیئے اکیلے۔ سعودی عرب میں  انہیں ایک مرد سربراہ کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے ہر وقت جب وہ کوئی ایسا فیصلہ کرنا چاہتی ہیں جو کہ ان کی آزادی کو بڑھاتا ہے؛ ان کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں، خدا کے لیئے! میں قدم بڑھا سکتا اور بیان کر سکتا ترجیحی سلوک جو کہ پوری دنیا میں مرد حاصل کرتے ہیں، لیکن فہرست بہت لمبی ہے۔میرے مین پیج پر آپ تلاش پا سکیں گے بہت سی ایسی مثالیں جن میں میں نے مذمت و ملامت کی ہے مرد و زن کے درمیان امتیاز کی۔

ایک سماجی میڈیا میڈیا بلاگ نہیں ملتا کہیں بھی، لیکن ہر اگر کسی نے ایک مضمون لکھا ان ممالک میں  یا کہیں بھی مرد و زن کے درمیان عدم مساوات کی اثر پذیری کے خلاف میرا یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی سننا شروع کر دے گا۔ سچ ہے کہ کئ دنیا عالمی رہنما ایک مقصد کے تحت زبردستی ان پالیسیوں کے تعمیل کراتے ہیں جبکہ دوسرے آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ روایات کو بدلنا بہت مشکل ہے۔ بہر کیف، اگر ہم ان کے دروازے پر دستک دینے کے لیئے ہمارے سماجی میڈیا نیٹ ورک کی حکمت عملیوں سے استفادہ حاصل کریں تو آخر کار کوئی اس دروازے کو کھولنے پر مجبور ہو جائیگا۔ ہم سب کو لوگوں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے طاقتور حیثیت میں متاثر کرنے کی ہمت کو تلاش کرنے میں- اور دباؤ ڈالنے کے لیئے- دوسرے آخر کار اسے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ غیر انسانی ہے کہ ایک جنس کو دوسری پر ترجیح دی جائے۔ کیا آپ انہیں تلاش کرنے میں میری مدد کریں گے؟

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگر آپ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں اور فلم انیکس کے ساتھ ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہیں، یہاں پر رجسٹر ہوں اور اپنا سفر شروع کریں۔ آپ لکھاریوں کے خاندان میں شامل ہونگے جو کہ دنیا بھر سے آ رہے ہیں اور خواہش مند ہیں آپ کی کہانیاں پڑھنے کے۔ فلم انیکس پر لکھنا بہت آسان ہے؛ صرف یہاں کلک کریں اور اپنا سفر شروع کریں۔ جتنی جلدی آپ رجسٹر ہونگے،فلم انیکس پر میرے ویب پیج کو سبسکرائب کریں؛ آپ فوراَ پیسے کما رہے ہونگے۔

اگر آپ پہلے سے ہی فلم انیکس پر لکھ رہے ہیں، اپنے دوستوں کو بتائیں کہ یہاں پر رجسٹر ہوں اور انہیں تجویز کریں کہ انہیں یہ مضمون پڑھنا چاہیئے: یہ انہیں دکھائے گا کہ انہیں اچھے بلاگز لکھنے کے لیئے اور فلم انیکس پر کامیاب ہونے کے لیئے کیا کرنے کی ضرورت ہے/

کیا آپ مجھے مذید جاننا پسند کریں گے؟ فلم انیکس کے ساتھ میرا انٹرویو دیکھیں، اور سماجی میڈیا اور دنیا بھر میں ڈیجیٹل خواندگی کے متعلق میرے خیال کے بارے میں جانیئے۔

 

گیا کو مو کرسٹی

سینیئر ایڈیٹر فلم انیکس

فلم انیکس

اگر آپ سے میرا کوئی  پچھلا مضمون رہ گیا ہے تو آپ اسے میرے ذاتی پیج

http://www.filmannex.com/webtv/giacomo:

  برائے مہربانی مجھے ٹوئٹر پر فالو کریں@giacomocresti76

مربوط ہوں فیس بک پر Giacomo Cresti اور میرے ویب پیج کو سبسکرائب کریں۔ 



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3477
160