- بخار پیدا کرنے والی مختلف بیماریوں کی غلط تشخیص

Posted on at



صحیح معنوں میں جسم کا درجہ حرارت جب نارمل سے بڑھ جائے تو بخار ہوتا ہے۔ان بیماریوں کو روکنے یا ان کا علاج کرنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان میں آپس میں فرق کیسے کیا جائے ۔


نیچے چند اہم شدید بیماریوں کا ذکر ہے جن میں بخار ایک اہم علامت ہوتا ہے ۔


ملیریا:شروع میں کمزوری ،سردی کا احساس اور بخار ہوتا ہے۔چند روز تک آتا جاتا رہتا ہے۔جب بخار چڑھتا ہے تو کپکپی طاری ہوتی ہے اور جب اترتا ہے تو پسینہ آتا ہے۔پھر ہر دوسرے تیسرے روز بخار چند گھنٹوں کے لئے آتا ہے اور باقی دنوں میں مریض کم وبیش ٹھیک رہتا ہے ۔



معیادی بخار (ٹائیفائد۔موتی جھرہ):شروع میں زکام جیسا ہوتا ہے۔روزانہ جسم کا درجہ حرارت تھوڑا تھوڑا بڑھ جاتا ہے ۔ نبض نسبتاًآہستہ چلتی ہے۔کبھی کبھی دست آتے ہیں اور جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ جسم میں تھرتھری ہوتی ہے یا ہڑیان(دماغ کا بہکنا)ہوتاہے۔مریض بہت بیمار ہوتا ہے۔


ٹائیفس:معیادی بخار جیسا ہوتا ہے۔خسرہ جیسے دانے نکلتے ہیں اور جسم پر چھوٹی خراشیں پڑتی ہیں ۔


ورم جگر(ہیپاٹائٹس):بھوک ختم ہوجاتی ہے ۔کھانے یا تمباکو پینے کو دل نہیں چاہتا ۔الٹی کرنے کو دل چاہتا ہے ۔آنکھیں اور جلد پیلی ہوجاتی ہیں ۔ پیشاب نارنجی یا کھتئی رنگ کا آتا ہے ۔ کبھی کبھی جگر بڑھ جاتاہے ۔ اور چھونے سے تکلیف ہوتی ہے ۔ ہلکا بخار رہتا ہے۔مریض بہت کمزور ہوجاتاہے ۔


نمونیا:تیز سانس جو سینے میں نہیں سماتی۔درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے۔کھانسی کے ساتھ ہرا،پیلا خون والا بلغم نکلتا ہے۔ سینے میں درد ہوسکتا ہے ۔ مریض بہت بیمار ہوتا ہے ۔


گنٹھیاکابخار:بچوں اور تیرہ سے انیس سالہ لڑکے لڑکیوں میں بہت عام ہوتا ہے ۔ جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔تیز بخار ہوتا ہے۔اکثر گلے کی خراش کے بعد یہ بیماری شروع ہوتی ہے۔ سینے میں درد کے ساتھ سانس اوپر اوپر چلتا ہے۔ بازو اور ٹانگیں خود بخود ہلنے لگتی ہیں۔


بروسیلوس(مالٹا بخار):تھکن،سر کے درد اور ہڈیوں میں درد کے ساتھ بیماری آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہے ۔رات کو عام طور پر بخار اور پسینہ آتا ہے۔ چند روز بعد بخار اتر جاتاہے۔مگر پھر چڑھ جاتا ہے۔یہ سلسلہ مہینوں بلکہ برسوں تک چل سکتا ہے ۔



About the author

DarkKhan

my name is faisal ......

Subscribe 2284
160