نو عمروں کی ڈائٹنگ ، تادیر مشکلات

Posted on at


وزن کم کرنا معیوب نہیں بلکہ شخصیت اور ظاہری خدوخال کو جاذ ب  نظر بنانے میں اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ڈائٹنگ فی زمانہ ایک فیشن کا درجہ اختیار کر گئی ہے اور خواتین اس حوالے سے سلمنگ سینٹرز کے چکر لگاتی دیکھی جا سکتی ہیں مگر نو عمری یا ٹین ایج میں ایسا کرنا درست نہیں ہے۔

نو عمر افراد کا وزن کم کرنے کی غرض سےمخصوص غذاؤں کا استعمال کرنے لگیں اور غیر صحتمندانہ پیمانوں کو اپنا لیں تو طویل عرصے پر اس کا خاتمہ وزن کے اضافے پر ہی ہوگا کمی نہیں آ سکے گی ۔ تحقیق کرنے والوں کو اس با کا بھی علم ہوا ہے کہ دور حاضر کے نو عمر افراد اور غیر صحتمندانہ انداز کھانے پینے کی عادت میں پھنسے ہوئے ہیں جن کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اچانک اور جلد وزن کم کرنے کے لئے وہ  کچھ بھی کر گزریں یوں وہ غلط حکمت عملی اختیار کر بیٹھے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض معاملات میں وہ بدنظمی میں مبتلا ہو کر خود کو نقصان پنہچاتے ہیں۔

 سائنسدانوں نے ڈھائی ہزار سے زائد نوعمرافراد کو ایک مشاہدے میں شامل کیا جو کہ اپنے وزن میں کمی کے خواہشمند تھے یا ایسی کوشش کر رہے تھے تاہم انہیں نے جو طریقے ازمائے ان کی وجہ سے پانچ برس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وزن کے مالک پائے گئے ۔

ان کی خوراک بری طرح بد نظمی کا شکار ہو گئی جو کہ اس حوالے سے وقت کی پابندی کو بھی فراموش کر بیٹھے انہیں متلی اور قے جیسی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا یہاں تک کہ وزن کی کمی کی خاطر ان میں سے بیشتر غذائی گولیوں کا استعمال کرنے لگے۔ مشاہدہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ڈائٹنگ اور وزن کم کرنے کے دوسرے ذرائع وقتی طور پر کارآمد ثابت ہونے کے بعد یا تو وزن میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں اور غذا کا تمام تر نظام گڑ بڑ ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر ان میں آنے والی مشکلات کی نشاندہی تو لازمی طور پر ہونے لگتی ہے۔

خواہ کچھ بھی ہو ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جب نو عمر افراد غذا پر کنٹرول کرتے ہیں تو وہ صحتمندانہ طرز عمل ہی اختیار کیوں نہ کریں انہیں فائدہ عموما بہت کم ہی پہنچتاہے ۔    



About the author

shaheenkhan

my name is shaheen.i am student . I am also interested in sports.I feel very good being a part of filmannex.

Subscribe 3449
160